خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر نے کہا ہے کہ رکن اسمبلی کی گرفتاری سے قبل اسپیکر کی اجازت کا طریقہ کار مقننہ کی آزادی کے تحفظ سے متعلق ہے، تاہم پارلیمانی استحقاق کسی رکن کو تفتیش یا عدالتی کارروائی سے مستثنیٰ نہیں کرتا۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ارکان اسمبلی کو حاصل پارلیمانی استحقاق کوئی نئی ایجاد نہیں بلکہ طویل عرصے سے پارلیمانی قوانین اور روایات کا حصہ ہے۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب خیبرپختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ نے صوبے کے انسپکٹر جنرل پولیس کو ایک مراسلے میں 2026 کے خیبرپختونخوا صوبائی اسمبلی (اختیارات، استثنیٰ اور مراعات) ایکٹ کی شق 11 کی جانب توجہ دلائی۔ اس شق کے تحت فوجداری الزام میں کسی رکن اسمبلی کی گرفتاری یا حراست سے قبل اسپیکر کی پیشگی اجازت کا طریقہ کار موجود ہے۔
اسپیکر کی اجازت کا مقصد کیا ہے؟
بابر سلیم سواتی کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی وزیر داخلہ منتخب عوامی نمائندے اور پارلیمانی نظام کا حصہ رہے ہوتے تو وہ جانتے کہ پارلیمانی استحقاق کا مقصد مقننہ کی آزادی کو تحفظ دینا ہے۔
ان کے مطابق رکن اسمبلی کو حاصل استحقاق اسے قانون سے بالاتر نہیں بناتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر رکن تفتیش، مقدمے اور عدالتی کارروائی کا سامنا کرسکتا ہے، جبکہ اسپیکر کا کردار اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ گرفتاری سیاسی انتقام یا اسمبلی کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے استعمال نہ ہو۔
خیبرپختونخوا اسمبلی کے قواعد میں بھی رکن کی گرفتاری یا حراست سے متعلق اسپیکر کو اطلاع یا اجازت کے طریقہ کار کی شقیں موجود رہی ہیں۔ 2025 کے اسمبلی قواعد کے رول 91 میں فوجداری الزام یا جرم کے تحت رکن کی گرفتاری کے لیے اسپیکر کی رضامندی حاصل کرنے کا طریقہ درج ہے۔
2026 کے قانون میں کیا کہا گیا ہے؟
خیبرپختونخوا میں 2026 کا نیا Provincial Assembly (Powers, Immunities and Privileges) Act مئی میں نافذ ہوا۔ سرکاری قانون کے ریکارڈ کے مطابق اس قانون کا مقصد صوبائی اسمبلی، اس کی کمیٹیوں اور ارکان کے اختیارات، استحقاقات اور مراعات کا تعین کرنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس قانون کی شق 11 میں کہا گیا ہے کہ کسی رکن کو فوجداری الزام یا جرم میں گرفتار کرنے یا انتظامی حکم کے تحت حراست میں لینے کی صورت میں متعلقہ اتھارٹی اسپیکر سے پیشگی اجازت طلب کرے گی۔
محسن نقوی اور بیرسٹر گوہر کا رابطہ ہے، جو اچھا ہے، رانا ثنااللہ
اس قانون پر رواں سال پہلے بھی بحث ہوئی تھی۔ جولائی میں حکومت خیبرپختونخوا نے قانون کی بعض متنازع شقوں کو واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے بعد اس قانون کے مختلف پہلوؤں پر نظرثانی کا معاملہ سامنے آیا۔
محسن نقوی نے کیا اعتراض کیا تھا؟
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خیبرپختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ کے مراسلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کوئی رکن اسمبلی فوجداری جرم کا مرتکب ہو تو کیا پولیس کو اس کی گرفتاری سے قبل بھی اسپیکر کی اجازت کا انتظار کرنا ہوگا؟
محسن نقوی نے اسے قانون کے سامنے برابری کے حوالے سے سوال قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی صورت میں عام شہری اور منتخب نمائندے کے لیے قانونی طریقہ کار مختلف ہوجاتا ہے۔
بابر سلیم سواتی کا مزید ردعمل
اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے جواب میں سوال اٹھایا کہ اگر قانون منتخب نمائندوں کو سیاسی دباؤ یا غیر قانونی کارروائیوں سے تحفظ دینے کے لیے طریقہ کار مقرر کرتا ہے تو اسے محض قانون سے بالاتر ہونے کے مترادف کیسے قرار دیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے سیاسی گرفتاریوں اور ماضی کے احتجاجی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے بھی وفاقی وزیر داخلہ کے مؤقف پر سوالات اٹھائے۔ تاہم ان واقعات اور ان سے متعلق سیاسی دعووں کے بارے میں مختلف سیاسی فریقوں کے مؤقف الگ الگ رہے ہیں۔
بابر سلیم سواتی نے مزید کہا کہ پارلیمانی استحقاقات صرف خیبرپختونخوا تک محدود تصور نہیں کیے جانے چاہئیں اور وفاقی و صوبائی سطح پر قانون سازوں کے استحقاقات پارلیمانی نظام کا حصہ رہے ہیں۔
یوں موجودہ تنازع بنیادی طور پر اس سوال کے گرد گھوم رہا ہے کہ فوجداری مقدمے میں رکن اسمبلی کی گرفتاری کے لیے اسپیکر کی پیشگی اجازت کا طریقہ کار قانون ساز ادارے کی آزادی کا تحفظ ہے یا قانون کے یکساں اطلاق میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر اور وفاقی وزیر داخلہ نے اس معاملے پر مختلف قانونی و سیاسی مؤقف پیش کیے ہیں۔
