پشاور: گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں اسپیشل سکیورٹی سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے ممکنہ خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے اور سکیورٹی سے متعلق مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صورتحال پر بریفنگ
اجلاس کے دوران گورنر فیصل کریم کنڈی کو صوبے کی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد صوبے بھر میں صورتحال پُرامن اور معمول کے مطابق رہی ہے۔
اجلاس میں دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پولیس اور سی ٹی ڈی کو مضبوط بنانے کا فیصلہ
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پولیس، سی ٹی ڈی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے سکیورٹی اداروں کی استعداد کار سے متعلق مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دہشت گردی کے چیلنج سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون اور سکیورٹی نظام کو مزید مؤثر بنانا ضروری ہے۔
خیبر پختونخوا کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم، گورنر کے امور میں معاونت کرے گی
دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی، گورنر خیبر پختونخوا
گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوت اور عزم کے ساتھ جاری رکھی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے عوام سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کو مضبوط بنانے کے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
اجلاس میں سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بہتر بنانے اور درپیش مسائل کے حل کو اہمیت دی گئی۔
