راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے نام نہاد آپریشن سندور پر بنائی گئی بھارتی ڈاکیومینٹری کو مسترد کرتے ہوئے اسے حقائق مسخ کرنے اور جنگی واقعات کو ایک من پسند انداز میں پیش کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی فلم سازوں نے تاریخ کو اپنی مرضی کے مطابق پیش کرنے کے لیے آپریشن سندور کی ایک ڈرامائی اور حقائق کے منافی تصویر کشی کی، جبکہ دستاویزی فلم میں بھارتی سیاسی اور عسکری قیادت کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
پاک فوج کے ترجمان ادارے کا کہنا ہے کہ ڈاکیومینٹری میں حقائق کے بجائے جذباتی بیانیے اور فلمی انداز کو نمایاں کیا گیا۔ آئی ایس پی آر نے فلم کے بیانیے کو بنیادی تضادات سے بھرپور قرار دیتے ہوئے کہا کہ سینما کی منظرکشی حقیقی جنگی واقعات کو تبدیل نہیں کرسکتی۔
آئی ایس پی آر نے بھارتی دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پہلگام واقعے کے مبینہ ملزمان 28 جولائی کو مارے گئے تو 7 مئی کو بھارت نے کس کو سزا دی؟ بیان کے مطابق بھارتی جانب سے مشن کی 100 فیصد کامیابی کا دعویٰ بھی آپریشنل ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ معرکہ حق کے دوران پاکستان نے بھارتی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے 8 بھارتی فوجی طیارے مار گرائے جبکہ آپریشن بنیان مرصوص میں 26 بھارتی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان میں کہا گیا کہ فلمی مناظر نہ طیاروں کے نقصانات کو تبدیل کرسکتے ہیں، نہ ہلاکتوں کو چھپا سکتے ہیں اور نہ ہی حقیقی فوجی جھڑپوں کے نتائج بدل سکتے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جنگی ریکارڈ، سفارتی رابطے اور خود بھارتی بیانات حقائق بیان کرنے کے لیے کافی ہیں۔
بھارتی بیانیہ بے نقاب ہو چکا، پاکستان ہر چیلنج کا جواب دینے کیلئے تیار ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ دشمنی کا خاتمہ دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان اتفاق رائے کے ذریعے ہوا، اس لیے امریکی معاونت سے ہونے والی جنگ بندی کو یکطرفہ بھارتی فوجی فتح کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے مؤقف اختیار کیا کہ بھارت نے فوجی ناکامی کو کامیاب مہم کے طور پر پیش کرنے کے لیے پروپیگنڈا پر مبنی مواد کا سہارا لیا ہے۔
آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے پرعزم ہے، تاہم ملکی خودمختاری اور سالمیت کے دفاع کے لیے مسلح افواج مکمل طور پر تیار ہیں اور مستقبل میں کسی بھی فوجی مہم جوئی کا جواب فیصلہ کن انداز میں دیا جائے گا۔
