ٹرمپ کا سابق امریکی میجر کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کا حکم

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی فوجی میجر ندال حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے کا حکم دے دیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق یہ 1945 کے بعد کسی امریکی فوجی کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جانے والی پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔

latest urdu news

فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کا واقعہ

بین الاقوامی خبر ایجنسی کے مطابق سابق امریکی میجر اور ماہر نفسیات ندال حسن نے 2009 میں ٹیکساس کے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق اس واقعے میں 13 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد ندال حسن کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا۔

ندال حسن امریکی فوج میں ماہر نفسیات کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور فورٹ ہڈ میں تعینات تھے۔ فائرنگ کے واقعے نے امریکا میں بڑے پیمانے پر توجہ حاصل کی اور اس کے بعد فوجی تنصیبات کی سکیورٹی اور فوجیوں کی ذہنی صحت سے متعلق معاملات پر بھی بحث ہوئی۔

2013 میں سزائے موت سنائی گئی

فوجی عدالتی کارروائی کے بعد سابق میجر ندال حسن کو 2013 میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ انہیں متعدد قتل کے الزامات میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔

امریکی فوجی نظام میں سزائے موت کے معاملات میں طویل قانونی کارروائی اور اپیلوں کے باعث سزا پر عمل درآمد میں کئی برس لگ سکتے ہیں۔

تازہ پیش رفت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزا دینے کا حکم سامنے آیا ہے، جس کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

1945 کے بعد پہلی فوجی سزائے موت

رپورٹ کے مطابق اگر سابق میجر ندال حسن کی سزائے موت فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے دی جاتی ہے تو یہ امریکا میں 1945 کے بعد کسی فوجی کو اس طریقے سے دی جانے والی پہلی فوجی سزائے موت ہوگی۔

فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت کا طریقہ امریکا میں انتہائی نایاب ہے اور عام طور پر سزائے موت کے دیگر طریقوں کے مقابلے میں اس کا استعمال بہت محدود رہا ہے۔

ندال حسن کا معاملہ اس لیے بھی اہم سمجھا جارہا ہے کہ واقعے کے کئی سال بعد بھی اس مقدمے کی قانونی اور فوجی حیثیت امریکی عوام اور عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کرتی رہی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter