اسلام آباد اور راولپنڈی میں سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر ٹرانسپورٹ کے نظام میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ انتظامیہ نے میٹرو بس سروس سمیت پرائیویٹ، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد حساس علاقوں میں سکیورٹی کو مضبوط بنانا بتایا جا رہا ہے۔
میٹرو بس سروس کی معطلی
انتظامیہ کے مطابق میٹرو بس سروس کو پمز اسٹیشن سے پاک سیکرٹریٹ تک مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، اور یہ بندش تاحکم ثانی جاری رہے گی۔ تاہم صدر اسٹیشن سے کچہری تک محدود سروس جزوی طور پر فعال رکھی گئی ہے تاکہ شہریوں کو کم از کم سفری سہولت میسر رہے۔
مکمل ٹرانسپورٹ پابندی
اسلام آباد اور راولپنڈی میں پرائیویٹ، پبلک اور گڈز ٹرانسپورٹ کو بھی تاحکم ثانی معطل کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہیوی ٹرانسپورٹ کے شہر میں داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، جس سے تجارتی سرگرمیوں اور روزمرہ نقل و حرکت پر نمایاں اثر پڑا ہے۔
ریڈ زون اور اہم شاہراہوں کی بندش
ٹریفک پولیس کے مطابق ریڈ زون اور توسیعی ریڈ زون کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے مکمل بند کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح کورال سے زیرو پوائنٹ تک ایکسپریس وے بھی بند رہے گی۔
ایران امریکا مذاکرات، اسلام آباد میں اگلے ہفتے متوقع
مزید یہ کہ سری نگر ہائی وے پر بھی وقفے وقفے سے ٹریفک روکنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس کے باعث شہریوں کو متبادل راستے اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
شہریوں کے لیے ہدایات
پولیس نے شہریوں اور ٹرانسپورٹرز کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور سفر سے پہلے متبادل روٹس کی معلومات ضرور حاصل کریں۔ خاص طور پر ہیوی ٹرانسپورٹ مالکان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان دنوں اسلام آباد کا رخ نہ کریں تاکہ کسی بھی قسم کی مشکلات سے بچا جا سکے۔
رہائشیوں کو بھی کہا گیا ہے کہ وہ ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری کردہ متبادل ٹریفک پلان پر عمل کریں۔
پس منظر
اگرچہ انتظامیہ نے تفصیلی وجہ واضح طور پر بیان نہیں کی، تاہم یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے گئے ہیں جب دارالحکومت میں سکیورٹی انتظامات اور ممکنہ اہم سرگرمیوں کے پیش نظر نقل و حرکت پر سخت نگرانی جاری ہے۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی پابندیاں عموماً وقتی ہوتی ہیں اور ان کا مقصد حساس مواقع پر امن و امان کو برقرار رکھنا ہوتا ہے۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں ٹرانسپورٹ کی معطلی نے شہری معمولات کو متاثر کیا ہے۔ اگرچہ یہ اقدامات عارضی ہیں، تاہم ان کا مقصد سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ اب صورتحال معمول پر آنے کے بعد ہی ٹرانسپورٹ نظام کی مکمل بحالی کا امکان ہے۔
