پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ایک اہم معاہدے پر عید کے بعد دستخط ہونے کا امکان ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ تقریباً طے پا چکا ہے اور صرف رسمی دستخط باقی ہیں۔ ان کے مطابق اس پیش رفت سے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی آنے کی امید کی جا سکتی ہے۔
معاہدے کی نوعیت پر مختلف آرا
مشاہد حسین سید نے یہ بھی کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات ایک نازک مگر اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، اور اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بعض دیگر جغرافیائی اور سیاسی معاملات اس عمل کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں، اس لیے حتمی نتیجے کا انحصار دونوں فریقین کے مؤقف پر ہوگا۔
ابراہیمی معاہدے پر مؤقف
اسی گفتگو کے دوران انہوں نے امریکی پالیسی اور علاقائی معاہدوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “ابراہیمی معاہدہ” قابل قبول نہیں اور یہ پاکستان یا بعض دیگر ممالک کے لیے ممکنات میں شامل نہیں۔
یہ مؤقف اس وسیع بحث کا حصہ ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں فلسطین، اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کے حوالے سے جاری ہے۔
فلسطینی مسئلے پر پاکستان کا مؤقف
اسی حوالے سے سابق سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے بھی گفتگو میں کہا کہ پاکستان اور دیگر ممالک فلسطینی عوام کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں کسی ایسے معاہدے کو قبول کرنا مشکل ہے جو فلسطینیوں کے بنیادی حقوق سے متعلق سوالات کو حل نہ کرے۔
خطے میں سفارتی منظرنامہ
ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کا سفارتی توازن متاثر ہو سکتا ہے۔ تاہم اس نوعیت کے دعوؤں اور بیانات کی حتمی تصدیق سرکاری سطح پر معاہدے کے اعلان کے بعد ہی ممکن ہوتی ہے۔
فی الحال یہ معاملہ سیاسی اور سفارتی مباحث کا اہم موضوع بنا ہوا ہے، اور مختلف حلقے اس پر مختلف آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔
