ہل پارک کے ایم سی کی ملکیت ہے اور رہے گی، ایک انچ زمین بھی کسی کو نہیں دی: مرتضیٰ وہاب

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی میں ہل پارک کے معاملے پر سیاسی بیانات کے بعد نئی بحث شروع ہو گئی ہے، جہاں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے واضح کہا ہے کہ ہل پارک کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (KMC) کی ملکیت ہے اور رہے گی، اور اس کی ایک انچ زمین بھی کسی کو نہیں دی گئی۔

latest urdu news

ہل پارک پر مؤقف اور وضاحت

پریس کانفرنس کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک کے ایم سی کی ملکیت تھی، ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ ان کے مطابق اس حوالے سے پھیلائی جانے والی مختلف خبروں اور سیاسی بیانات میں حقیقت نہیں ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ شہری زمینوں اور عوامی مقامات کی حفاظت کے لیے بلدیاتی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صفائی مہم اور عید قربان کے اعداد و شمار

میئر کراچی نے عید الاضحیٰ کے دوران شہر میں صفائی کے انتظامات پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق اس عرصے میں لینڈ فل سائٹس پر 81 ہزار 525 ٹن آلائشیں منتقل کی گئیں، جبکہ مجموعی طور پر 88 ہزار 436 ٹن اینیمل ویسٹ اور کچرا ٹھکانے لگایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ صفائی مہم ایک بڑے پیمانے پر کی گئی کوشش تھی جس میں مختلف بلدیاتی اداروں نے حصہ لیا تاکہ شہر میں فوری طور پر صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔

نیپا واقعہ: کے ایم سی نے بی آر ٹی اور نجی اسٹور انتظامیہ کو ذمہ دار قرار دے دیا

سیاسی تنقید اور ردعمل

مرتضیٰ وہاب نے بعض سیاسی جماعتوں کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ “کھالوں اور لاشوں کی سیاست” نے کراچی کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق شہر کو تقسیم کرنے اور اسے سیاسی تنازعات کا مرکز بنانے کے بجائے ترقی اور عوامی خدمت پر توجہ دینی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے مسائل کا حل صرف اسی صورت ممکن ہے جب تمام فریقین مل کر عوامی مفاد کو ترجیح دیں اور منفی سیاست سے گریز کریں۔

صوبائی حکومت کا مؤقف

دوسری جانب سندھ حکومت کے ترجمان شرجیل انعام میمن نے بھی اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم پرانے سیاسی بیانیے اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے اپنی سیاست کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ کراچی کسی ایک جماعت کی جاگیر نہیں بلکہ پاکستان کا معاشی مرکز ہے، اور تمام عوامی زمینوں اور اداروں سے متعلق معاملات قانون اور آئینی طریقہ کار کے تحت حل کیے جانے چاہییں۔

سیاسی کشیدگی میں اضافہ

ہل پارک اور دیگر عوامی مقامات سے متعلق بیانات کے بعد کراچی کی سیاسی فضا ایک بار پھر گرم ہو گئی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہی ہیں، تاہم شہریوں کی بڑی تعداد کا کہنا ہے کہ ان تنازعات کے بجائے توجہ شہر کے بنیادی مسائل، صفائی اور ترقی پر ہونی چاہیے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter