امریکا کے ایرانی پاسداران انقلاب کے ٹھکانوں پر حملے، 4 شہید

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکی فورسز نےایران میں پاسدارانِ انقلاب کے خلاف حملوں کی ایک لہرمکمل کی،جس میں فضائی دفاعی مراکز،ریڈارسسٹمز،بحری اثاثے، بارودی سرنگیں بچھانےکی صلاحیت اور مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا،حملوں کے جواب میں ایران نے بھی اردن میں 13 بیلسٹک میزائل داغ دیے۔

latest urdu news

امریکی سینٹ کام کاکہنا ہےکہ یہ حملے آبنائےہرمز میں تجارتی جہاز رانی اور خطے میں موجود امریکی اہلکاروں کے خلاف پاسدارانِ انقلاب کی مبینہ حالیہ کارروائیوں کے بعد کیے گئے،مشرقِ وسطیٰ میں 50 ہزار سےزائد امریکی فوجی موجود ہیں جومکمل چوکس ہیں اورمزید کارروائیوں کے لیے تیار ہیں۔

ایران کے علاقے’سیرک’کےقریب شادی کی تقریب پر بمباری کے نتیجے میں 4 افراد شہید، 50 سے زائد زخمی ہوئے،قشم جزیرے اوربندرعباس سمیت مختلف شہروں دھماکےہوئے،قشم جزیرے کےماسان گاؤں کے قریب 5 سے زائد دھماکے ہوئے۔

اُدھرلبنان سےڈرون حملے کےخطرے پراسرائیل میں الرٹ جاری کردیا گیا،کفاریووال اورگردونواح میں سائرن بجائے گئے،میوو باروخ اور یفتاح میں بھی فضائی حملے کے سائرن بج اٹھے۔

امریکی حملوں کے بعد ایران نے جوابی کارروائی شروع کردی،پاسداران انقلاب نے بڑی تعداد میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے،پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اردن میں امریکی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔اردن کا کہنا ہے کہ اس کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 13 میں سے 10 بیلسٹک میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا جبکہ تین میزائل آبادی سے دور گرے

آبنائے ہرمز میں کشیدگی: پاسداران انقلاب کی امریکی جنگی جہازوں کو وارننگ، ویڈیو جاری

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نےکہا ہے کہ ایران پر امریکا کا تازہ ترین حملہ ’’جائز‘‘ تھا، اگر تہران نے جوابی کارروائی کی تو امریکا مزید بڑے حملے کرے گا،حملے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے پر حملے کیے گئے۔ آبنائے ہرمز میں اس وقت کوئی بارودی سرنگ موجود نہیں، تمام سرنگیں ہٹادیں یا ناکارہ بنا دی گئی ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نےکہا ہےکہ ایران وحشیانہ جرائم کا بھرپور جواب دے گا، جرائم پرخاموشی اختیار کرنے والی حکومتیں غیرجانب دارنہیں،بربریت کوجوازفراہم کرنا جرم کو معمول بنانے کے مترادف ہے،غیرقانونی حملوں کو سیاسی مفاد کے لیےجائزنہیں کیاجاناچاہیے،جرائم کی مذمت اور انہیں معمول بنانے کے درمیان فرق ختم ہورہا ہے

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter