ن لیگ اتحادیوں کو خوش کرے لیکن سندھ کو قربانی کا بکرا نہ بنائے: شرجیل میمن

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

پیپلز پارٹی کے رہنما نے خواجہ آصف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں مزید صوبے بنانے کی مخالفت میں اسمبلی آٹھ مرتبہ قراردادیں منظور کر چکی ہے۔

latest urdu news

سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ن لیگ اپنے اتحادیوں کو خوش ضرور کرے، تاہم سندھ کو کسی سیاسی معاملے میں قربانی کا بکرا بنانے سے گریز کرنا چاہیے۔

شرجیل میمن نے اپنے بیان میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس سے متعلق اختلافِ رائے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مختلف صوبائی اسمبلیاں اس معاملے پر پہلے بھی اپنی پوزیشن واضح کر چکی ہیں۔

پنجاب اسمبلی کی قراردادوں کا حوالہ

سندھ کے سینئر وزیر نے کہا کہ پنجاب اسمبلی سرائیکی صوبے کے حق میں دو مرتبہ قرارداد منظور کر چکی ہے۔

ان کے مطابق اس کے برعکس سندھ اسمبلی سندھ کے اندر مزید صوبے بنانے کی مخالفت میں آٹھ مرتبہ قراردادیں منظور کر چکی ہے۔

شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ اس لیے نئے انتظامی یونٹس کے معاملے میں مختلف صوبوں کی اسمبلیوں کی منظور کردہ قراردادوں اور سیاسی مؤقف کو سامنے رکھنا چاہیے۔

انہوں نے ایک بار پھر مسلم لیگ ن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اتحادیوں کو خوش کرے، لیکن سندھ کو اس معاملے میں قربانی کا بکرا بنانے سے گریز کرے۔

پنجاب میں سرائیکی صوبے کی بات ہوتی ہےتو پیپلزپارٹی اسکی حمایت کرتی ہے، خواجہ آصف

خواجہ آصف نے کیا کہا تھا؟

شرجیل میمن کا یہ ردعمل وزیر دفاع خواجہ آصف کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے پیپلز پارٹی کی نئے انتظامی یونٹس سے متعلق پالیسی پر سوال اٹھایا تھا۔

خواجہ آصف نے کہا تھا کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں سرائیکی صوبے کی حمایت کرتی ہے، لیکن جب انتظامی یونٹس کی بات آتی ہے تو سندھ میں سندھو دیش کی بات شروع ہوجاتی ہے۔

وزیر دفاع نے پیپلز پارٹی کی اس پالیسی کو دورخی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وقت آنے پر اس کی تشریح کی جائے گی۔

نئے صوبوں کا معاملہ سیاسی بحث کا مرکز

پاکستان میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا معاملہ کئی برس سے سیاسی بحث کا حصہ رہا ہے۔ مختلف اوقات میں جنوبی پنجاب، سرائیکی صوبے اور دیگر انتظامی تقسیم کی تجاویز سامنے آتی رہی ہیں، تاہم صوبائی حدود میں تبدیلی ایک حساس سیاسی اور آئینی معاملہ ہے۔

نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے مؤقف بھی مختلف رہے ہیں۔ ایک جانب بعض حلقے انتظامی سہولت اور بہتر حکمرانی کے لیے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب سیاسی جماعتیں صوبائی شناخت اور موجودہ انتظامی ڈھانچے کے تحفظ کو اہم قرار دیتی ہیں۔

موجودہ بیان بازی سے ظاہر ہوتا ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی سطح پر نمایاں ہو رہا ہے اور مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتوں کے درمیان اس معاملے پر اختلافِ رائے مزید بحث کا باعث بن سکتا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter