ڈاکٹر ماہ نور کی حالت بہتر، بینائی محفوظ اور وہ مکمل ہوش میں: اہلخانہ

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

کوئٹہ: تیزاب گردی کے افسوسناک واقعے کا شکار ہونے والی خاتون ڈاکٹر ماہ نور کی صحت کے حوالے سے اہلخانہ نے تازہ معلومات فراہم کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کی حالت اب بہتر ہے، وہ مکمل ہوش میں ہیں اور ان کی بینائی محفوظ ہے۔

latest urdu news

اہلخانہ نے جیو نیوز سے ٹیلیفونک گفتگو میں تصدیق کی کہ ڈاکٹر ماہ نور نہ صرف ہوش میں ہیں بلکہ اپنے اہلخانہ سے بات چیت بھی کر رہی ہیں، جو ان کی صحتیابی کے عمل میں ایک حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔

طبی حالت اور علاج کی تفصیلات

اہلخانہ کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور کے جسم پر جلنے کے زخم زیادہ تر سطحی نوعیت کے ہیں، جن کا علاج جاری ہے۔ متاثرہ حصوں سے مردہ جلد ہٹانے کا عمل بھی ڈاکٹروں کی نگرانی میں کیا جا رہا ہے تاکہ جلد کی بحالی کا عمل بہتر انداز میں مکمل ہو سکے۔

مزید بتایا گیا کہ ان کی سرجریز مرحلہ وار کی جا رہی ہیں، جن میں جلد کی گرافٹنگ بھی شامل ہے۔ ماہر ڈاکٹروں کی ایک ٹیم مسلسل ان کی حالت کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ کسی بھی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔

بینائی کے حوالے سے اہم وضاحت

اہلخانہ نے سب سے اہم بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر ماہ نور کی بینائی محفوظ ہے، جو ابتدائی خدشات کے مقابلے میں ایک بڑی تسلی بخش خبر ہے۔ اس سے قبل ایسے واقعات میں متاثرہ افراد کو آنکھوں اور چہرے کے شدید نقصانات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم اس کیس میں صورتحال نسبتاً بہتر بتائی جا رہی ہے۔

کوئٹہ میں تیزاب گردی کا شکار ڈاکٹر ماہ نور کے بھائی کا جذباتی بیان سامنے آگیا

تیزاب گردی اور معاشرتی چیلنج

پاکستان میں تیزاب گردی کے واقعات ایک سنگین سماجی مسئلہ تصور کیے جاتے ہیں، جن کے متاثرین کو نہ صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی اور سماجی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انسانی حقوق کے ادارے بارہا اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے سخت قوانین، فوری انصاف اور مؤثر عملدرآمد ضروری ہے۔

علاج جاری، اہلخانہ پرامید

اہلخانہ کے مطابق ڈاکٹر ماہ نور کی مکمل صحتیابی کے لیے وقت درکار ہوگا، تاہم ان کی موجودہ حالت حوصلہ افزا ہے۔ وہ ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں مسلسل علاج حاصل کر رہی ہیں اور ان کی بہتری کے امکانات روشن بتائے جا رہے ہیں۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس ضرورت کو اجاگر کرتا ہے کہ معاشرے میں ایسے پرتشدد رجحانات کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ کسی اور خاندان کو ایسے دکھ اور صدمے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter