اسلام آباد: چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی سیاسی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ملک کے مسائل حل کرنے اور اتحادیوں و اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم بعض وفاقی وزرا کے بیانات اور طرزِ عمل سے حکومتی معاملات میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم پر زور دیا کہ وہ اپنی کابینہ کو مؤثر انداز میں کنٹرول کریں، ورنہ وقت گزرنے کے ساتھ مسائل میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف محنت اور سنجیدگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں اور وہ ان کی نیت اور کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لیکن بعض وزرا کے غیر ضروری بیانات سیاسی ماحول کو خراب کر دیتے ہیں اور حکومت کے لیے نئی مشکلات پیدا کرتے ہیں۔
آزاد کشمیر کے معاملے پر وفاقی وزیر کو تنقید کا نشانہ
بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر کے حالیہ معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کے مسائل کو سیاسی اور جمہوری انداز میں حل کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن ایک وفاقی وزیر نے صورتحال کو بہتر بنانے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی ضرورت تھی، متعلقہ وزیر کے بیانات نے آگ بجھانے کے بجائے اسے مزید بھڑکانے کا کام کیا۔ بلاول کے مطابق مذکورہ وزیر آج تک اپنے بیان پر معذرت کرنے کے لیے بھی تیار نہیں، جس سے اتحادی جماعتوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
اتحادی سیاست میں محتاط رویے کی ضرورت
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر کوئی وزیر یہ دعویٰ کرے کہ وہ اپنی جیب میں متعدد نشستیں لے کر آتا ہے تو ایسے بیانات سیاسی شراکت داری کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتحادی حکومتوں کی کامیابی باہمی احترام، مشاورت اور ذمہ دارانہ طرزِ گفتگو سے مشروط ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کو اپنی ٹیم کے اندر نظم و ضبط کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ حکومتی پالیسی اور وزرا کے بیانات میں تضاد پیدا نہ ہو۔
کراچی کے مسائل پر ایم کیو ایم کو تنقید کا سامنا
کراچی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ شہر کے مسائل کا ذمہ دار پیپلز پارٹی کو قرار دینا درست نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی کابینہ میں شامل بعض اتحادی جماعتوں کے وزرا کراچی کے معاملات پر حقائق کے برعکس مؤقف اختیار کرتے ہیں۔
گلگت بلتستان میں حکومت سازی کا حق پیپلزپارٹی کو حاصل ہے، وزیراعلیٰ ہمارا ہوگا: بلاول بھٹو
انہوں نے کہا کہ اگر کسی جماعت کو واقعی لگتا ہے کہ کراچی کے مسائل حل نہیں ہو رہے اور اسے صرف سیاسی یقین دہانیاں دی جا رہی ہیں تو اسے حکومت میں رہنے یا نہ رہنے کا فیصلہ خود کرنا چاہیے۔ ان کے بقول یہ طے کرنا ہوگا کہ کراچی کے عوام کے مسائل زیادہ اہم ہیں یا حکومتی عہدے۔
بلدیاتی نظام پر وفاقی حکومت کو تنقید
بلاول بھٹو زرداری نے ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط بلدیاتی نظام جمہوری عمل کا بنیادی جزو ہے اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے بغیر عوامی مسائل مؤثر انداز میں حل نہیں کیے جا سکتے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جہاں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے وہاں بلدیاتی نظام موجود ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) بلدیاتی انتخابات سے گریز کرتی رہی ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میں بھی بااختیار بلدیاتی نظام متعارف کرانے کا مطالبہ کیا تاکہ مقامی حکومتیں حقیقی معنوں میں عوامی مسائل حل کر سکیں۔
بجٹ کی منظوری جلد مکمل کرنے کا مشورہ
اپنی تقریر کے اختتام پر بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو مشورہ دیا کہ عاشورہ سے قبل بجٹ کی منظوری کا عمل مکمل کر لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں بعض ارکان کی عدم موجودگی کے باعث پارلیمانی کارروائی متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے حکومت کو بروقت فیصلے کرنے چاہئیں۔
انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف اپنے سیاسی اور انتظامی اہداف میں کامیاب ہوں گے کیونکہ ان کی کامیابی ملک کے مجموعی استحکام اور بہتری کے لیے اہم ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کے اس خطاب کو حکومتی اتحادیوں کے درمیان موجود سیاسی اختلافات، بلدیاتی نظام، آزاد کشمیر کے معاملات اور کابینہ کے اندر پالیسی ہم آہنگی سے متعلق ایک اہم سیاسی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
