بجٹ اقدامات پر صنعتکاروں کی مختلف آرا، عارف حبیب نے سرمایہ کاری میں اضافے کو مشکل قرار دے دیا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وفاقی بجٹ کے بعد کاروباری اور صنعتی حلقوں میں اس کے ممکنہ اثرات پر بحث جاری ہے۔ معروف صنعتکار عارف حبیب نے بجٹ میں کیے گئے بعض اقدامات پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ پالیسیوں کے تحت ملک میں سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہونا انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے۔

latest urdu news

انہوں نے یہ رائے جیو نیوز کی خصوصی ٹرانسمیشن ’’کر ڈالو، آخری موقع‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے پیش کی، جہاں ملکی معیشت، سرمایہ کاری اور صنعتی شعبے کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ٹیکسوں اور پیداواری لاگت پر تشویش

عارف حبیب کے مطابق کاروباری برادری کی جانب سے سپر ٹیکس کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا، تاہم بجٹ میں اس میں صرف دو فیصد کمی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ٹیکسوں کی شرح اب بھی بلند سطح پر موجود ہے تو نئے سرمایہ کاروں کو راغب کرنا آسان نہیں ہوگا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف برآمدات پر ٹیکسوں میں کمی کافی نہیں، بلکہ پیداواری لاگت کو کم کرنا بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر صنعتوں کو بجلی، گیس اور دیگر توانائی ذرائع مہنگے داموں ملتے رہیں گے تو پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مسابقت برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار رہیں گی۔

سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع

عارف حبیب نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری کی رفتار پہلے ہی سست ہے اور نئی صنعتوں کے قیام میں بھی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہو رہی۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری میں کمی کا براہ راست اثر روزگار کے مواقع پر پڑتا ہے، جس کے باعث معیشت کی مجموعی نمو متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ موجودہ بجٹ اقدامات سے فوری طور پر سرمایہ کاری کے ماحول میں نمایاں بہتری آتی دکھائی نہیں دیتی۔

محمد علی ٹبہ کی رائے

دوسری جانب معروف صنعتکار محمد علی ٹبہ نے بجٹ کو صنعتی شعبے کے لیے نسبتاً مثبت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ معیشت کے استحکام کے لیے مالی خسارے کو کم کرنا اور حکومتی آمدنی میں اضافہ ضروری ہے۔

نئے مالی سال میں دفاعی اخراجات بڑھانے کی تجویز، بجٹ 3 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا

انہوں نے تجویز دی کہ برآمدی شعبے کو مزید مراعات دی جائیں تاکہ ملکی زرمبادلہ میں اضافہ ہو اور صنعتوں کی پیداواری صلاحیت بہتر بنائی جا سکے۔ ان کے مطابق پاکستان کو ان شعبوں پر توجہ دینی چاہیے جہاں برآمدات میں اضافہ ممکن ہے۔

پالیسی تسلسل اور اعتماد سازی کی ضرورت

محمد علی ٹبہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پالیسیوں میں تسلسل ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کار اسی وقت طویل مدتی منصوبہ بندی کرتے ہیں جب انہیں حکومتی پالیسیوں کے تسلسل اور استحکام کا یقین ہو۔

بجٹ کی سمت درست، ڈاکٹر زیلف منیر

ادھر ڈاکٹر زیلف منیر نے بجٹ کی مجموعی سمت کو درست قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مختلف اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد بعض اہم مسائل کے حل کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اعتماد سازی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اگر کاروباری طبقے کو پالیسیوں کے تسلسل، شفافیت اور معاشی استحکام کا یقین ہو تو ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ممکن ہے۔

کاروباری برادری کی توقعات

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان اس وقت ایسے مرحلے پر کھڑا ہے جہاں سرمایہ کاری، برآمدات اور صنعتی پیداوار میں اضافہ اقتصادی بحالی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ کاروباری حلقے توقع رکھتے ہیں کہ آئندہ مہینوں میں حکومت توانائی کے اخراجات، ٹیکس اصلاحات اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے مزید اقدامات کرے گی تاکہ معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter