اسلام آباد ، سینیٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے اجلاس کے دوران سربراہ عوامی نیشنل پارٹی ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو فائز عیسٰی جیسے ججز کی ضرورت ہے۔
ایمل ولی خان کی جانب سے اس بات پر فخر کا اظہار کیا گیا کہ جسٹس ثاقب نثار، جسٹس گلزار اور جسٹس کھوسہ کی تقرری کو روکا گیا۔
ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ ماضی میں ساسو ماں کے فیصلے ہوتے تھے، لیکن اب ایسا نہیں ہوگا۔
سربراہ اے این پی نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے یہ کہا کہ وہ پہلے دن سے ہی اس بل میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کر چکے تھےاور چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کو سراہتے ہوئےیہ کہاگیا کہ وہ واحد بہترین شخص ہیں، لیکن پارٹی خود انہیں تسلیم نہیں کرتی۔
ایمل ولی خان نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بل میں 4 اہم نکات شامل نہیں ہیں، جو جے یو آئی(ف) کے دباؤ کے باعث ہٹائے گئے، ان نکات کو واپس لانے کی صورت میں وہ بل کی حمایت کریں گے۔
اے این پی کے سربراہ کی جانب سے 9 مئی کو دفاعی تنصیبات پر حملوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئےیہ کہا گیا کہ اسے بل کا حصہ بنایا جائے۔
