برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مبینہ نماز جنازہ تہران میں سخت سکیورٹی میں ادا کی گئی ہے۔
اخبار کے مطابق یہ تقریب جمعرات کے روز منعقد ہوئی، جس میں مبینہ طور پر ان کے اہل خانہ اور چند اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نے شرکت کی۔ تاہم رپورٹ میں کیے گئے ان دعوؤں کی کسی آزاد یا سرکاری ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
خبر کے حوالے سے ایران کی حکومت یا متعلقہ اداروں کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دی ٹیلی گراف کی رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ واقعہ انتہائی حساس نوعیت کا تھا اور سکیورٹی کے سخت انتظامات کے تحت انجام دیا گیا، تاہم ان تفصیلات کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق موجود نہیں۔
واضح رہے کہ اس نوعیت کی خبروں کے حوالے سے حتمی رائے دینے کے لیے سرکاری تصدیق اور معتبر آزاد ذرائع کی تصدیق ضروری ہوتی ہے۔
