لندن/جہلم: برطانیہ میں والد کے ہاتھوں قتل ہونے والی 10 سالہ سارہ شریف کے بہن بھائی بدستور پاکستان میں اپنے دادا کی کفالت میں رہیں گے، کیونکہ برطانیہ کی سرے کاؤنٹی کونسل نے انہیں واپس برطانیہ لانے کے لیے جاری قانونی کارروائی ترک کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سرے کاؤنٹی کونسل کا کہنا ہے کہ موجودہ قانونی اور انتظامی صورتحال میں بچوں کو برطانیہ واپس لانے کے مقدمے سے دستبردار ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ اس فیصلے کے بعد سارہ شریف کے بہن بھائی پاکستان میں ہی اپنے دادا کے ساتھ رہائش پذیر رہیں گے۔
رپورٹس کے مطابق سارہ شریف کے بہن بھائی 5 اکتوبر 2023ء سے ضلع جہلم کے علاقے جنجیل میں اپنے دادا کے ساتھ مقیم ہیں۔ بچوں کے دادا کے وکیل کا کہنا ہے کہ تمام بچے دہری شہریت رکھتے ہیں اور مستقبل میں اگر وہ چاہیں تو برطانیہ جا سکتے ہیں یا وہاں مستقل رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ سارہ شریف کی تشدد زدہ لاش 10 اگست 2023ء کو برطانیہ کے شہر ووکنگ میں واقع ان کے گھر سے برآمد ہوئی تھی۔ تحقیقات کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا تھا کہ کمسن بچی طویل عرصے تک جسمانی تشدد کا نشانہ بنتی رہی تھی۔
سارہ شریف قتل کیس: والد اور سوتیلی ماں کی سزا برقرار، عمر قید برقرار
اس افسوسناک واقعے کے بعد برطانوی عدالت نے سارہ شریف کے والد عرفان شریف کو قتل کے جرم میں 40 سال قید کی سزا سنائی، جبکہ سوتیلی والدہ کو 33 سال قید کی سزا دی گئی۔ اسی مقدمے میں سارہ کے چچا فیصل ملک کو بچی کی موت کا سبب بننے یا اسے روکنے میں ناکامی پر 16 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق سارہ شریف کی موت سے متعلق عدالتی انکوائری (Inquest) کی کارروائی آئندہ سال متوقع ہے، جس میں اس المناک واقعے کے تمام پہلوؤں اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا۔
