حنا جاوید قتل کیس میں پولیس کے دعوؤں اور مرکزی ملزم قرار دیے گئے گھریلو ملازم ذیشان ارشد کے آبائی علاقے سے ملنے والی معلومات میں فرق سامنے آیا ہے۔ مقامی پولیس ریکارڈ میں ملزم کے خلاف کوئی سابقہ مقدمہ یا شکایت نہیں ملی، جبکہ اساتذہ، دوستوں اور سابق مالکان نے بھی اس کے کردار کے بارے میں مختلف مشاہدات بیان کیے ہیں۔
حنا جاوید قتل کیس کی تحقیقات کے دوران ملزم ذیشان ارشد کے ماضی اور کردار سے متعلق نئے سوالات سامنے آئے ہیں۔ پولیس کی تحقیقاتی ٹیم اسے مجرمانہ رجحانات کا حامل شخص قرار دے چکی ہے اور اس کے مبینہ طور پر غیر قانونی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے حوالے سے بھی بیانات دے چکی ہے۔
تاہم جیو نیوز کی ٹیم نے ملزم کے آبائی علاقے میانہ گونل، منڈی بہاؤالدین کا دورہ کیا اور مقامی پولیس ریکارڈ کا جائزہ لینے کے علاوہ اساتذہ، دوستوں، سابق مالکان اور دیگر مقامی افراد سے گفتگو کی۔ اس تحقیق کے دوران ملنے والی معلومات پولیس کے ابتدائی مؤقف سے مختلف دکھائی دیں۔
مقامی پولیس ریکارڈ میں کوئی سابقہ مقدمہ یا شکایت نہیں
جیو نیوز کے مطابق تھانہ میانہ گونل کے دستیاب ریکارڈ میں ذیشان ارشد کے خلاف کوئی سابقہ مقدمہ یا شکایت درج نہیں ملی۔ مقامی پولیس نے بھی اس کے خلاف کسی سابقہ مجرمانہ ریکارڈ یا شکایت کی موجودگی کی تصدیق نہیں کی۔
تحقیق کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ مقامی پولیس ابتدا میں حنا جاوید قتل کیس سے لاعلم تھی۔ بعد ازاں میڈیا میں نشر ہونے والی خبروں کے حوالے سے اسے اس معاملے کا علم ہوا۔
مقامی پولیس کا کہنا تھا کہ قتل کیس کی تحقیقاتی ٹیم نے اب تک ان سے رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی انہیں کسی مقامی شخص کا بیان ریکارڈ کیے جانے کی اطلاع ہے۔ اس صورت حال نے یہ سوال پیدا کیا ہے کہ ملزم کے آبائی علاقے میں اس کے ماضی اور کردار کی جانچ کے لیے کتنی تحقیقات کی گئیں۔
اساتذہ اور دوستوں نے ملزم کے بارے میں کیا بتایا؟
جیو نیوز نے ذیشان ارشد کے مدرسے کے استاد قاری مشتاق سے بھی گفتگو کی، جہاں ملزم تقریباً 2 سے ڈھائی سال زیر تعلیم رہا تھا۔ قاری مشتاق نے اس کے کسی غیر اخلاقی یا غیر فطری سرگرمی میں ملوث ہونے کے تاثر کو مسترد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ذیشان ارشد اتنا بڑا جرم کرسکتا ہے۔
ملزم کے دوست انس نے بتایا کہ اس کی ذیشان ارشد سے تقریباً 5 سال پرانی دوستی ہے اور دونوں کے درمیان معمولی نوعیت کے لڑائی جھگڑے ہوتے رہے ہیں۔ اس نے پولیس کے اس مؤقف کو درست قرار نہیں دیا کہ ذیشان اپنے دوستوں کو تصاویر یا ویڈیوز بھیجتا رہا ہے۔ انس کے مطابق اسے ذیشان نے کبھی ایسی کوئی تصویر یا ویڈیو نہیں بھیجی۔
سابق مالکان نے بھی پولیس کے دعوؤں سے اختلاف کیا
ذیشان ارشد کے سابق مالک محمد رفیق بھٹی، جو ایئر فورس سے ریٹائرڈ ہیں اور اب ٹریول ایجنسی چلاتے ہیں، نے بتایا کہ ملزم کا خاندان مذہبی پس منظر رکھتا ہے اور اس کے دادا گاؤں کے پیش امام رہ چکے ہیں۔
ان کے مطابق ذیشان کافی عرصہ ان کے پاس کام کرتا رہا اور اس کے کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کی تصدیق وہ نہیں کرسکتے۔ انہوں نے پولیس کے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا کہ ملزم کسی غیر فطری یا غیر اخلاقی سرگرمی میں ملوث رہا ہے۔
حنا جاوید قتل کیس: اہلخانہ کا مریم نواز کو خط، جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ
محمد رفیق بھٹی کا کہنا تھا کہ ذیشان کا بچپن ان کے سامنے گزرا اور اس کے خلاف کبھی کوئی شکایت سامنے نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ راولپنڈی میں پیش آنے والے واقعے کی اصل حقیقت سے آگاہ نہیں، تاہم ملزم اور اس کے خاندان کے حوالے سے اپنے مشاہدات بیان کرسکتے ہیں۔
ایک اور سابق مالک محمد سلیم، جو بک شاپ چلاتے ہیں، نے بتایا کہ ذیشان تقریباً ڈیڑھ سال ان کے پاس کام کرتا رہا۔ ان کے مطابق وہ ایماندار اور اچھے کردار کا لڑکا تھا اور اس کے بارے میں کبھی کوئی غلط بات سامنے نہیں آئی۔
ملازمت سے پہلے ذیشان کی چھان بین کا دعویٰ
ذیشان ارشد کو حنا جاوید کے گھر میں ملازمت پر رکھنے والے شخص تصور نے کیمرے کے سامنے اپنا مؤقف دینے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے جیو نیوز کو بتایا کہ ذیشان کو تقریباً 7 ماہ قبل باقاعدہ چھان بین کے بعد ملازمت پر رکھا گیا تھا۔
تصور کے مطابق مقتولہ کے دیور کامل اصغر کے ذریعے ذیشان کو ملازمت پر رکھا گیا تھا۔ کامل اصغر نے اس کا ڈومیسائل اور والد کا شناختی کارڈ بھی طلب کیا تھا اور تسلی کرنے کے بعد اسے گھر میں کام پر رکھا گیا۔
گاؤں کے ہیئر ڈریسر حاجی شہباز نے بتایا کہ ذیشان اکثر ان کے پاس بال کٹوانے آتا تھا اور ان کے مشاہدے کے مطابق اس کی طبیعت اچھی تھی۔ علاقے کے کونسلر محمد منشا نے بھی ملزم کے خلاف کسی مقامی شکایت یا عیب کی نشاندہی نہ ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ اس کا خاندان بھی اچھا ہے۔
پولیس کے دعوؤں کی بنیاد کیا ہے؟
حنا جاوید قتل کیس میں پولیس کی تحقیقاتی ٹیم ذیشان ارشد کو سابقہ رجحانات اور فارنزک رپورٹس کی روشنی میں مرکزی ملزم قرار دے چکی ہے۔ پولیس کے مطابق ذیشان نے خود بھی کئی جرائم کا اعتراف کیا ہے، جبکہ فارنزک رپورٹس بھی اس کے خلاف ہیں۔
دوسری جانب جیو نیوز کو ملزم کے آبائی علاقے میں دستیاب مقامی پولیس ریکارڈ میں کوئی سابقہ مقدمہ یا شکایت نہیں ملی اور مقامی افراد نے بھی اس کے کردار کے بارے میں مثبت آرا کا اظہار کیا ہے۔
تاہم مقامی سطح پر سابقہ مقدمہ یا شکایت نہ ملنے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ملزم بے گناہ ہے، اسی طرح مقامی افراد کی آرا بھی پولیس کے دعوؤں کی تردید کے لیے بذات خود کافی نہیں۔ اصل اہمیت ان شواہد کی ہے جن کی بنیاد پر پولیس نے ملزم کے مبینہ مجرمانہ رجحانات اور قتل میں ملوث ہونے کا مؤقف اختیار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مقتولہ حنا جاوید کی اصل فارنزک رپورٹس تاحال سامنے نہیں آئی ہیں، جبکہ واقعے کو تقریباً 3 ماہ گزرنے کے باوجود پولیس نے چالان بھی جمع نہیں کرایا۔ ایسے میں اہم سوال یہ ہے کہ پولیس کے دعوؤں کی بنیاد بننے والے شواہد کیا ہیں، ان کی آزادانہ تصدیق کیسے ممکن ہے اور تفتیش مکمل ہونے میں مزید کتنا وقت لگے گا؟
