پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے احتجاجی سیاست کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پارٹی کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔ ان کے مطابق نام نہاد یوٹیوبرز نے بانی پی ٹی آئی کی سیاست کو نقصان پہنچایا، جبکہ ڈالر مافیا سے لاتعلقی اختیار نہ کرنا بھی پارٹی کی بڑی غلطی تھی۔
شوکت یوسفزئی نے اپنے بیان میں پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے مذاکرات کو موجودہ سیاسی صورت حال سے نکلنے کا راستہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ آج بھی اپنے اس مؤقف پر قائم ہیں کہ سیاسی مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ احتجاجی سیاست سے کوئی خاطر خواہ نتیجہ حاصل نہیں ہوا، اس لیے پارٹی کو اپنی حکمت عملی اور مستقبل کے سیاسی فیصلوں پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
نام نہاد یوٹیوبرز نے بانی پی ٹی آئی کی سیاست کو نقصان پہنچایا
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ بعض نام نہاد یوٹیوبرز نے بانی پی ٹی آئی کی سیاست کو نقصان پہنچایا۔ ان کے بقول ڈالر مافیا سے لاتعلقی اختیار نہ کرنا بھی پی ٹی آئی کی بڑی غلطیوں میں شامل ہے۔
ان کے بیان میں پارٹی کے اندر سیاسی بیانیے، سوشل میڈیا پر سرگرم افراد کے کردار اور بعض حلقوں سے تعلقات کے حوالے سے تحفظات سامنے آئے ہیں۔
انا اور ضد سے سیاسی گنجائش حاصل نہیں ہوگی
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ انا اور ضد کی بنیاد پر سیاسی گنجائش حاصل نہیں کی جاسکتی۔ سیاسی معاملات میں لچک اور مذاکرات کی اہمیت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ پہلے بھی مذاکرات کے حامی تھے اور اب بھی سمجھتے ہیں کہ سیاسی تعطل ختم کرنے کے لیے بات چیت ہی مؤثر راستہ ہے۔
مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کا علم نہیں، آگے آئے تو خیرمقدم کریں گے: شوکت یوسفزئی
آئندہ چند ہفتے پی ٹی آئی کے لیے اہم قرار
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ آئندہ چند ہفتے سیاسی اعتبار سے انتہائی اہم دکھائی دے رہے ہیں۔ ممکنہ نئی سیاسی صف بندی کے تناظر میں پی ٹی آئی کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اس بدلتی ہوئی صورت حال میں اپنا کردار کس طرح ادا کرے گی۔
ان کے مطابق پارٹی کو مستقبل کی سیاسی حکمت عملی واضح کرنا ہوگی اور یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ مذاکرات، احتجاج یا کسی دوسرے سیاسی راستے میں سے کس کو ترجیح دے گی۔
شوکت یوسفزئی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر سیاسی حکمت عملی، احتجاجی سیاست اور مذاکرات کے معاملے پر مختلف آرا موجود ہیں۔ تاہم پارٹی کی آئندہ حکمت عملی کے حوالے سے حتمی فیصلہ قیادت کی مشاورت سے ہی سامنے آئے گا۔
