امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آئینی ترامیم کے بعد چیف جسٹس کا تقرر سنیارٹی پر نہیں ہوگا۔
امیر جماعت اسلامی نے اپنے بیان میںیہ کہا کہ گویا سب کا اس پراتفاق ہو گیا کہ اب منصور علی شاہ چیف جسٹس نہیں بن رہے ۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری یہ کہتے ہیں ترامیم پر پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان کا 100 فیصد اتفاق ہے، بیرسٹرگوہرکہہ رہے ہیں کہ تحریک انصاف کا فضل الرحمان سے اتفاق رائے ہوگیا جبکہ رانا ثناء اللہ کہتے ہیں کہ مولانا نے حکومت کے مسودے سے اتفاق کیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ گویا سب کا اتفاق ہو گیا ہے کہ اگلے چیف جسٹس منصور علی شاہ نہیں ہوں گے، آئینی ترامیم کے بعد چیف جسٹس کا تقرر سنیارٹی پرنہیں ہوگا، عدلیہ پراسٹیٹ کاپورا کنٹرول ہوگا۔
دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے تحریک انصاف کو کابینہ، اسمبلی اور سینیٹ اجلاسوں میں تاخیر کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔
ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی بغیر عمران خان سے ملے بات نہیں کرنا چاہتی، جبکہ مولانا پی ٹی آئی کو مذاکرات کے لیے آمادہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں، لیکن ان کے خیال میں سربراہ جے یو آئی (ف) کی یہ کوشش ناکام ہوگی۔
رانا ثنا اللہ نے بیان دیا کہ کابینہ، اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں تاخیر کا سبب تحریک انصاف کے وفد کی اپنے بانی سے ملاقات ہے
