وزارت عظمیٰ بچانے کی کوششیں، نیتن یاہو نے اسرائیل کی ممکنہ نئی حکومت کو سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے عرب رہنماؤں کو حماس کا حامی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ مجوزہ نئی حکومت اسرائیلی سلامتی اور فوج کے مفادات کا مؤثر دفاع نہیں کر سکے گی۔ انہوں نے اپوزیشن سے سیاسی اختلافات ختم کرکے قومی اتحادی حکومت بنانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

latest urdu news

اسرائیل میں نئی حکومت کی تشکیل کے لیے سیاسی سرگرمیاں جاری ہیں، جبکہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ممکنہ نئی حکومت کے خلاف سخت مؤقف اختیار کر لیا ہے۔ انہوں نے اسے اسرائیل کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت کے قیام سے ملک کو سکیورٹی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

نیتن یاہو نے اسرائیلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے عرب رہنماؤں کو بھی حماس کا حامی قرار دیا اور مجوزہ حکومت کی تشکیل پر اعتراضات اٹھائے۔

مجوزہ حکومت کے ارکان سے متعلق نیتن یاہو کے دعوے

اسرائیلی وزیراعظم کا دعویٰ ہے کہ نئی حکومت کے ایک تہائی ارکان اسرائیلی فوجیوں کو جنگی مجرم سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسی حکومت نہ تو ایران کے خلاف سخت مؤقف اختیار کر سکے گی اور نہ ہی اسرائیلی فوجیوں کا مؤثر انداز میں دفاع کر پائے گی۔

نیتن یاہو نے خبردار کیا کہ مجوزہ حکومت کی پالیسیوں سے اسرائیل کی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطے جاری ہیں۔

ٹرمپ کا نیتن یاہو سے متعلق بیان: “وہ جانتے ہیں کہ اصل اختیار کس کے پاس ہے”

اپوزیشن سے قومی اتحاد کی اپیل

نیتن یاہو نے سیاسی اختلافات ختم کرکے قومی اتحاد قائم کرنے پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو ملک کے وسیع تر مفاد میں اختلافات ایک طرف رکھ کر اتحادی حکومت کے قیام کے لیے آگے آنا چاہیے۔

سیاسی مبصرین کے نزدیک نیتن یاہو کا یہ مطالبہ حکومت سازی کے موجودہ مرحلے میں خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ نئی حکومت کی تشکیل سے اسرائیل کی آئندہ سیاسی سمت کا تعین ہوگا۔

گادی آئزنکوٹ کو حکومت بنانے کی دعوت دینے کا فیصلہ

واضح رہے کہ اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کو نئی حکومت تشکیل دینے کی دعوت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس پیش رفت کے بعد اسرائیل میں حکومت سازی کا معاملہ اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ایک طرف اپوزیشن نئی حکومت بنانے کی کوشش کر رہی ہے تو دوسری جانب نیتن یاہو اس مجوزہ حکومت کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے رہے ہیں۔

آئندہ دنوں میں حکومت سازی کے لیے ہونے والے سیاسی مذاکرات اور مختلف جماعتوں کے فیصلے واضح کریں گے کہ اسرائیل میں نئی حکومت کس شکل میں سامنے آتی ہے اور نیتن یاہو وزارت عظمیٰ برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں