چین کے 26 سالہ نوجوان سونگ شینگیو نے سائنس فکشن فلموں میں دکھائی جانے والی اڑنے والی سواری کو حقیقت کا روپ دینے کی کوشش کرتے ہوئے ایک منفرد ہوور بورڈ تیار کرلیا ہے۔ اس کی آزمائشی پرواز کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آئی، جس میں وہ دریائے یانگتسی، پہاڑی علاقوں اور شہری گلیوں کے اوپر پرواز کرتا دکھائی دیتا ہے۔
وسطی چین کے صوبے ہوبے سے تعلق رکھنے والے سونگ شینگیو نے یہ ہوور بورڈ صرف 2 ماہ میں تیار کیا۔ اس کی پرواز کی ویڈیو 15 اکتوبر کو جاری کی گئی تھی، جس میں نوجوان کو اپنی تیار کردہ مشین کے ذریعے فضا میں سفر کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔
سونگ شینگیو کی یہ کوشش اس لیے بھی توجہ حاصل کر رہی ہے کہ اس نے محدود وسائل سے اپنے اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کی۔ تاہم اس منفرد سواری کی عملی افادیت اور حفاظت کے حوالے سے مزید تکنیکی تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔
14 سال کی عمر میں اسکول چھوڑ دیا
سونگ شینگیو کی زندگی کا سفر روایتی تعلیمی راستے سے مختلف رہا۔ اطلاعات کے مطابق اس نے 14 سال کی عمر میں اسکول چھوڑ دیا اور اپنے والد کی دکان پر کام شروع کردیا۔
اس کے باوجود ہوا بازی اور مشینیں تیار کرنے میں اس کی دلچسپی برقرار رہی۔ اس نے ہوا بازی کے ناکارہ سامان کی مدد سے طیارے کا ایک ماڈل بھی تیار کیا، جس سے اس کے تکنیکی تجربات کا آغاز ہوا۔
جون 2022 میں اس نے ایک خالی گودام کو اپنی نجی تجربہ گاہ میں تبدیل کردیا، جہاں وہ مختلف منصوبوں پر کام کرنے لگا۔ تاہم اسے مالی مشکلات اور فراڈ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں اس پر 24 لاکھ چینی یوان کا قرض چڑھ گیا۔
بعد ازاں ایک آئی ٹی کمپنی نے اس کے منصوبے میں 18 لاکھ یوان کی سرمایہ کاری کی، جس سے اسے دوبارہ کام شروع کرنے کا موقع ملا۔
ریموٹ کنٹرول طیارے سے ہوور بورڈ تک کا سفر
مئی 2024 میں سونگ شینگیو نے ایک ریموٹ کنٹرول طیارہ تیار کیا۔ اس نے اس طیارے کو ایک اڑنے والے غبارے کے ذریعے زمین کے کرہ ہوائی میں بھیجنے کی کوشش کی، لیکن خراب موسم کے باعث یہ تجربہ کامیاب نہ ہوسکا۔
اس ناکامی کے باوجود اس نے ہوا بازی سے متعلق اپنے تجربات جاری رکھے۔ تقریباً 6 ماہ بعد اس نے ایک ہیلی کاپٹر سے 5 ہزار میٹر کی بلندی پر گھریلو ساختہ پرواز کرنے والی ڈیوائس پہن کر چھلانگ لگائی۔
چین میں 2 پڑوسی خاندانوں کا 200 سال پرانا جائیداد کا تنازع وائرل
یہ تجربہ انتہائی خطرناک ثابت ہوا، کیونکہ اس کا مرکزی پیراشوٹ نہیں کھل سکا۔ بعد میں دوسرا پیراشوٹ زمین سے تقریباً 600 میٹر کی بلندی پر کھلا۔ اس صورت حال میں سونگ شینگیو کو اپنی جان خطرے میں محسوس ہوئی، تاہم وہ محفوظ رہا۔
اسپائیڈر مین کے ولن کے گلائیڈر سے متاثر ہوکر تیاری
رواں سال سونگ شینگیو نے اسپائیڈر مین فلم میں ولن گرین گوبلن کے زیر استعمال اڑنے والے گلائیڈر سے متاثر ہوکر ہوور بورڈ بنانے کا منصوبہ شروع کیا۔
اس کے مطابق، ابتدائی ورژن کی آزمائش کامیاب نہیں ہوئی، جس کے بعد اس نے مصنوعی ذہانت سے متعلق ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے ایک نیا ہوور بورڈ تیار کیا۔
رپورٹ کے مطابق اس نئے ماڈل میں 4 بالغ افراد کو لے کر اڑنے کی صلاحیت موجود ہے اور اس کی آزمائشی پرواز بھی کامیاب رہی۔ تاہم اس صلاحیت اور مشین کی محفوظ حدوں سے متعلق آزادانہ تکنیکی تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔
دریائے یانگتسی اور پہاڑی علاقوں میں آزمائشی پرواز
سونگ شینگیو نے اپنے تیار کردہ ہوور بورڈ کو مختلف مقامات پر آزمایا، جن میں دریائے یانگتسی، پہاڑی چوٹیوں اور شہروں کی گلیوں کے اوپر پرواز شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس نے ایک وادی میں بھی اس مشین کو بحفاظت اتارا۔
اس کا کہنا ہے کہ اس نے محدود وسائل کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کیا، اس لیے اسے ناکامی سے خوف محسوس نہیں ہوتا تھا۔
سونگ شینگیو نے اپنے تجربے کے حوالے سے کہا، ’’میں نے خالی ہاتھ آغاز کیا تو مجھے ناکامی کا ڈر نہیں تھا، بہادری سے آگے بڑھنا ہی بہترین آپشن تھا۔‘‘
اس نوجوان کی کہانی اس کی مسلسل کوششوں اور ہوا بازی سے وابستہ دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔ تاہم کسی بھی اڑنے والی گھریلو ساختہ مشین کے عملی استعمال سے پہلے اس کی حفاظت، تکنیکی صلاحیت اور قابل اعتماد ہونے کا باقاعدہ جائزہ ضروری ہے۔
