جسٹس محسن اختر کیانی نے استعفیٰ دے دیا، 23 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

جسٹس محسن اختر کیانی نے لاہور ہائیکورٹ کے جج کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے ذاتی وجوہات، حالیہ سرجری کے بعد صحت سے متعلق خدشات اور عدلیہ کی آزادی سے متعلق تحفظات کو استعفے کی وجوہات قرار دیا۔ صدر پاکستان کو لکھے گئے خط میں انہوں نے 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

latest urdu news

استعفے میں ذاتی وجوہات اور صحت کا ذکر

جسٹس محسن اختر کیانی نے صدر پاکستان کو اپنا استعفیٰ ارسال کیا، جس میں انہوں نے ذاتی وجوہات اور حالیہ سرجری کے بعد صحت سے متعلق خدشات کا ذکر کیا۔

انہوں نے اپنے خط میں بتایا کہ وہ اسلام آباد ہائیکورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اپنے عدالتی دور میں انہوں نے مختلف نوعیت کے 23 ہزار سے زائد مقدمات کے فیصلے کیے۔

ان کے مطابق عدالتی ذمہ داریوں کے دوران انہوں نے متعدد مقدمات کی سماعت کی اور فیصلے سنائے۔ تاہم، استعفے میں صحت اور ذاتی وجوہات کے ساتھ عدالتی نظام میں ہونے والی تبدیلیوں پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔

26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم پر تحفظات

جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے استعفے میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم پر تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان آئینی تبدیلیوں نے ہائیکورٹس کی آزادی اور ادارہ جاتی خودمختاری کو متاثر کیا ہے۔

انہوں نے عدالتی معاملات میں انتظامیہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق اس صورت حال سے عدلیہ کی آزادی اور انصاف کے عمل پر عوامی اعتماد متاثر ہوا ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی کے یہ خیالات عدالتی خودمختاری، ججوں کی آزادی اور آئینی تبدیلیوں کے اثرات سے متعلق ان کے ذاتی مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان تحفظات پر مزید بحث اور متعلقہ اداروں کا مؤقف اس معاملے کو سمجھنے میں اہم ہوگا۔

بیوروکریسی اور ایگزیکٹو عدلیہ سے مذاق کر رہے ہیں: جسٹس محسن اختر کیانی

عہدہ چھوڑنے کے بعد وکالت جاری رکھنے کا ارادہ

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ عہدہ چھوڑنے کے بعد بھی وہ عوام کے حقوق کے تحفظ اور قانونی آگاہی کے فروغ کے لیے کام جاری رکھیں گے۔

انہوں نے وکالت کے ذریعے عوام کو قانونی معاملات سے متعلق آگاہ کرنے اور ان کے حقوق کے تحفظ میں کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

ان کے بیان کے مطابق عدالتی منصب سے الگ ہونے کے باوجود قانونی شعبے سے ان کا تعلق برقرار رہے گا، البتہ وہ آئندہ کس نوعیت کی عملی سرگرمیاں انجام دیں گے، اس بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ سے لاہور ہائیکورٹ تک تبادلوں کا معاملہ

جسٹس محسن اختر کیانی کے استعفے سے ایک روز قبل ان کا لاہور ہائیکورٹ کے راولپنڈی بینچ میں تبادلہ کیا گیا تھا۔

اس سے قبل رواں سال اپریل میں ان کا دیگر ججوں کے ساتھ اسلام آباد ہائیکورٹ سے لاہور ہائیکورٹ میں تبادلہ ہوا تھا۔ ان تبادلوں کے بعد وہ لاہور ہائیکورٹ میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔

اب استعفے کے اعلان کے بعد ان کے عدالتی کیریئر کا یہ مرحلہ اختتام پذیر ہوتا دکھائی دے رہا ہے، تاہم استعفے کی منظوری اور اس کے باضابطہ نفاذ سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

ریٹائرمنٹ سے کئی سال پہلے استعفیٰ

دستیاب معلومات کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی کو 11 فروری 2032 کو ریٹائر ہونا تھا۔ اس طرح ان کا استعفیٰ مقررہ ریٹائرمنٹ کی تاریخ سے کئی سال پہلے سامنے آیا ہے۔

ان کے استعفے میں صحت اور ذاتی وجوہات کے علاوہ آئینی ترامیم اور عدلیہ کی آزادی سے متعلق تحفظات بھی بیان کیے گئے ہیں۔ اب اس معاملے میں آئندہ پیش رفت کا انحصار استعفے پر باضابطہ کارروائی اور متعلقہ حکام کے فیصلے پر ہوگا۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں