سربیا میں قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے بعد سابق صدر الیگزینڈر ووچچ نے تسلیم کیا ہے کہ ان کا سیاسی اتحاد شکست سے دوچار ہوگیا ہے۔ طلبہ کی قیادت میں قائم سیاسی تحریک کے حامیوں نے نتائج سامنے آنے کے بعد دارالحکومت بلغراد سمیت مختلف مقامات پر جشن منایا۔
الیگزینڈر ووچچ کا انتخابی شکست کا اعتراف
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق الیگزینڈر ووچچ نے کہا کہ اگرچہ انتخابات کے حتمی نتائج ابھی سامنے نہیں آئے، تاہم ابتدائی اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا سیاسی اتحاد کامیابی حاصل نہیں کرسکا۔
ابتدائی نتائج کے مطابق طلبہ کی حمایت یافتہ تحریک نے انتخابات میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم انتخابی عمل کے مکمل نتائج اور سیاسی صورت حال کی حتمی تصویر سرکاری نتائج جاری ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔
رپورٹس کے مطابق انتخابات میں ووٹرز کی شرکت تقریباً 70 فیصد رہی۔ اسے 1992 میں یوگوسلاویہ کے ٹوٹنے کے بعد سربیا میں ہونے والے انتخابات میں بلند ترین شرحوں میں شمار کیا جارہا ہے۔
بلغراد میں طلبہ تحریک کے حامیوں کا جشن
انتخابات کے ابتدائی نتائج سامنے آنے کے بعد بلغراد کی سڑکوں پر طلبہ تحریک کے حامیوں نے خوشی کا اظہار کیا۔ لوگوں نے گاڑیوں کے ہارن بجائے اور اپنی کامیابی کا جشن منایا۔
طلبہ کی قیادت میں چلنے والی اس تحریک نے ملک میں سیاسی تبدیلی، شفافیت اور حکومتی احتساب کے مطالبات اٹھائے تھے۔ انتخابی نتائج کو اس تحریک کے لیے ایک اہم سیاسی پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
فرانس میں پُرتشدد مظاہرے، کئی شہروں میں کرفیو نافذ، 2400 افراد گرفتار
احتجاج کا آغاز کیسے ہوا؟
سربیا میں طلبہ کے احتجاج کا سلسلہ 2024 میں نووی ساد شہر کے ریلوے اسٹیشن کی چھت گرنے کے واقعے کے بعد شروع ہوا تھا، جس میں 16 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
اس سانحے کے بعد حکام سے جواب دہی اور مبینہ بدعنوانی کے خلاف کارروائی کے مطالبات زور پکڑ گئے۔ احتجاجی تحریک نے وقت کے ساتھ وسعت اختیار کی اور حکومت پر بدعنوانی اور آمرانہ طرز حکمرانی کے الزامات بھی عائد کیے۔
تقریباً 2 سال سے جاری مظاہروں کے بعد ہونے والے ان انتخابات نے طلبہ تحریک کو ملک کی سیاست میں نمایاں مقام دلا دیا ہے۔ تاہم حتمی انتخابی نتائج کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ پارلیمان میں مختلف سیاسی قوتوں کی پوزیشن کیا ہوگی اور نئی حکومت کی تشکیل کس طرح آگے بڑھے گی۔
