مارچ اور دھرنے ختم کریں گے تو آپ کے ساتھ بات ہوگی، وزیراعظم کی ایک بار پھر پی ٹی آئی کو مذاکرات کی پیشکش

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مارچ اور دھرنے ختم کیے جائیں تو حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ احتجاج کی سیاست سے ملکی معیشت اور عالمی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

latest urdu news

ملکی معیشت مشکل مراحل سے گزر کر مستحکم ہوئی، وزیراعظم

اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ ڈھائی سال کے دوران مسلسل محنت اور ٹیم ورک کے ذریعے ملکی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں میکرو اکنامک استحکام بڑی محنت کے بعد حاصل ہوا ہے اور یہ کامیابی آسانی سے حاصل نہیں ہوئی۔ وزیراعظم کے مطابق پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر آگے لے جانا پوری قوم کی خواہش ہے اور ہر پاکستانی کی آواز یہی ہے کہ ملک کو ایک مضبوط اور عظیم ریاست بنایا جائے۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کو کامیاب بنانے کی کوششیں کی گئیں، تاہم بدقسمتی سے یہ کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکیں۔

احتجاج سے معیشت متاثر ہونے کا خدشہ

وزیراعظم نے کہا کہ ایک طرف ملک میں ترقی اور خوشحالی کا عمل آگے بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں جبکہ دوسری جانب احتجاج اور دھرنوں کے باعث معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ احتجاج کی سیاست سے برآمدات، درآمدات اور مینوفیکچرنگ کے شعبے متاثر ہوسکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

شہباز شریف نے سوال اٹھایا کہ اگر ملک میں معاشی سرگرمیاں بحال ہو رہی ہیں اور ترقی کا پہیہ آگے بڑھ رہا ہے تو اسے دوبارہ روکنا کیا ملک کے مفاد میں ہے؟

انہوں نے پی ٹی آئی سے اپیل کی کہ وہ حالات کو سمجھتے ہوئے دھرنوں اور احتجاج کا سلسلہ ختم کرے اور ملکی معیشت کو مزید نقصان سے بچانے میں کردار ادا کرے۔

عالمی ساکھ کو نقصان نہ پہنچانے کا مشورہ

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اپنی معیشت کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اپنی ساکھ بہتر بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے میں مسلسل احتجاج اور سیاسی بے یقینی سے ملک کے بارے میں منفی تاثر پیدا ہوسکتا ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا احتجاج کے ذریعے پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچانا مقصود ہے؟

معاہدے پر اتفاق ہوچکا تھا، دستخط سے کچھ دیر پہلے سہیل آفریدی کے مطالبات نے سب ختم کردیا، طلال چوہدری

وزیراعظم نے پی ٹی آئی کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ مارچ اور دھرنے ختم کریں گے تو حکومت آپ کے ساتھ بات کرے گی۔

حکومت اور اپوزیشن میں مذاکرات کی گنجائش برقرار

وزیراعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہے اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر مذاکرات کو ناکام بنانے کے الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے بارہا یہ مؤقف سامنے آتا رہا ہے کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے نکالا جاسکتا ہے، تاہم احتجاجی سرگرمیوں کے دوران مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا مشکل ہوگا۔

شہباز شریف نے بھی اپنے تازہ خطاب میں ایک طرف احتجاج ختم کرنے پر زور دیا جبکہ دوسری جانب مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کا عندیہ دیا۔ ان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت کو ایک ممکنہ راستہ سمجھتی ہے، لیکن اس کے لیے احتجاجی سرگرمیاں ختم کرنے کو بنیادی شرط قرار دے رہی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں