وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پارٹی میں اختلافات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ختم کرنے کا مؤثر راستہ اکتوبر میں ہونے والے انٹرا پارٹی انتخابات ہیں۔
کراچی: وفاقی وزیر صحت اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے اعتراف کیا ہے کہ پارٹی کے اندر اختلافات موجود ہیں جو نچلی سطح تک پہنچ چکے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ان اختلافات کا فیصلہ پارٹی کے کارکنان ہی کریں گے۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان میں اختلافات بالکل موجود ہیں اور یہ اختلافات نیچے تک سرایت کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق پارٹی کو دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے انٹرا پارٹی انتخابات انتہائی اہم ہیں، جو اکتوبر میں ہونے جا رہے ہیں۔
پارٹی انتخابات ہی اختلافات ختم کرنے کا راستہ ہیں
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پارٹی کے اندر اختلافات ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے، تاہم ممکن ہے کہ ان کوششوں میں کہیں کوئی کمی رہ گئی ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کے بغیر ان اختلافات کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات میں کارکنان جس امیدوار کو کامیاب قرار دیں گے اور جسے ناکام کریں گے، پارٹی کی تمام قیادت کو اس فیصلے کو تسلیم کرنا ہوگا۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ پارٹی کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ کارکنان کو اپنی قیادت منتخب کرنے کا موقع دیا جائے اور انتخابی عمل کے نتیجے کو سب تسلیم کریں۔
پیپلز پارٹی کو ایم کیو ایم کی فکر نہ کرنے کا مشورہ
مصطفیٰ کمال نے پیپلز پارٹی کی جانب سے ایم کیو ایم پاکستان کے اندرونی معاملات پر سامنے آنے والے بیانات کا بھی جواب دیا۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو ایم کیو ایم کے معاملات کے بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان کے مطابق سندھ حکومت کے معاملے پر ایم کیو ایم پاکستان کے اندر کوئی اختلاف نہیں اور پارٹی کے مؤقف میں کوئی ابہام موجود نہیں۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکمرانی کے حوالے سے بھی ایم کیو ایم کا مؤقف واضح ہے اور اس معاملے پر پارٹی کے اندر کوئی کنفیوژن نہیں۔
پنجاب میں سرائیکی صوبے کی بات ہوتی ہےتو پیپلزپارٹی اسکی حمایت کرتی ہے، خواجہ آصف
مقامی حکومتوں کے اختیارات پر بھی بات
وفاقی وزیر صحت نے مقامی حکومتوں کو اختیارات دینے کے معاملے پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ اگر مجوزہ آئینی ترمیم کو تسلیم کرلیا جاتا تو آج کراچی اور دیگر علاقوں کی گلی کوچوں تک اختیارات اور وسائل پہنچ چکے ہوتے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ مقامی حکومتوں کو اختیارات ملنے سے آخر ایم کیو ایم کو کیا فائدہ ہوتا؟ ان کا کہنا تھا کہ معاملہ کسی ایک جماعت کے سیاسی فائدے کا نہیں بلکہ اختیارات اور وسائل کی نچلی سطح تک منتقلی کا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں ایم کیو ایم کی فتح یا ناکامی نہیں ہوگی بلکہ ملک کی فتح یا ناکامی ہوگی۔
ان کے مطابق اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور مؤثر بلدیاتی نظام ملک میں عوامی مسائل کے حل کے لیے اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
یوں ایم کیو ایم پاکستان کے اندرونی اختلافات کے اعتراف کے ساتھ مصطفیٰ کمال نے ایک بار پھر انٹرا پارٹی انتخابات کو پارٹی کی سمت طے کرنے کا اہم مرحلہ قرار دیا ہے، جبکہ دوسری جانب اختیارات کی تقسیم اور بلدیاتی نظام کے معاملے کو بھی سیاسی بحث کا اہم حصہ قرار دیا۔
