انڈونیشیا میں آتش فشاں پھٹنے سے پروازیں منسوخ، تعلیمی سرگرمیاں معطل

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

آناک کراکاٹوا کے پھٹنے سے راکھ کے بادل بلند ہوگئے، جکارتہ کے ایئرپورٹ سے 200 سے زائد پروازیں متاثر جبکہ متعدد علاقوں میں اسکول بند کردیے گئے۔

latest urdu news

انڈونیشیا میں آناک کراکاٹوا آتش فشاں کے پھٹنے کے بعد معمولاتِ زندگی متاثر ہوگئے ہیں۔ آتش فشاں سے نکلنے والی راکھ کے بڑے بادل فضا میں پھیلنے کے باعث دارالحکومت جکارتہ کے مرکزی سوئیکارنو ہٹا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فلائٹ آپریشنز عارضی طور پر معطل کیے گئے، جبکہ 200 سے زائد مقامی اور بین الاقوامی پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں۔

آتش فشاں جمعے کی رات گئے پھٹا، جس کے بعد لاوا اور راکھ انتہائی بلندی تک پہنچ گئی۔ حکام اور متعلقہ اداروں نے صورتحال پر نظر رکھتے ہوئے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

راکھ کے بادل ہزاروں فٹ بلندی تک پہنچ گئے

رپورٹس کے مطابق ماؤنٹ آناک کراکاٹوا سے ہونے والے اخراج کے نتیجے میں راکھ کے بادل جاوا کی سمت تقریباً 20 ہزار فٹ جبکہ سماٹرا اور صوبہ بینٹن کی سمت 50 ہزار فٹ سے زائد بلندی تک پہنچ گئے۔

فضا میں راکھ کی موجودگی نے فضائی سفر کے لیے مشکلات پیدا کیں، جس کے باعث جکارتہ کے اہم ہوائی اڈے پر پروازوں کا شیڈول متاثر ہوا۔ مجموعی طور پر 200 سے زیادہ پروازوں کے منسوخ یا تاخیر کا شکار ہونے کی اطلاع ہے۔

فضائی راکھ طیاروں کے انجن اور پرواز کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، اس لیے آتش فشانی سرگرمی کے دوران ایئرلائنز اور ہوائی اڈے حفاظتی اقدامات کے تحت پروازوں کے اوقات میں تبدیلی یا انہیں منسوخ کرسکتے ہیں۔

اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں بھی معطل

آتش فشانی راکھ کے پھیلاؤ سے متاثرہ علاقوں میں متعدد اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں بھی معطل کردی گئی ہیں۔

مقامی رہائشیوں کی جانب سے آنکھوں میں جلن اور سانس کے مسائل کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ راکھ کے ذرات انسانی صحت، خصوصاً آنکھوں اور نظام تنفس کو متاثر کرسکتے ہیں، اس لیے حکام نے شہریوں کو غیرضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کا مشورہ دیا ہے۔

انڈونیشیا کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے بی این پی بی نے شہریوں سے پرسکون رہنے اور صورتحال پر نظر رکھنے کی اپیل کی ہے۔

بابا وانگا کی 2026 کے لیے خوفناک پیش گوئیاں، دنیا پر تباہ کن اثرات کا خدشہ

شہریوں کو ماسک پہننے اور احتیاط کی ہدایت

بی این پی بی کے ترجمان کے مطابق آتش فشانی راکھ کی بارش کے امکان کے پیش نظر شہریوں کو فیس ماسک استعمال کرنے اور آنکھوں کی حفاظت کا خاص خیال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ بیرونی سرگرمیوں کو محدود رکھیں، پانی کے ذخائر کو ڈھانپ کر رکھیں اور راکھ سے متاثرہ سڑکوں پر گاڑی چلاتے ہوئے خصوصی احتیاط برتیں۔

ترجمان کے مطابق آتش فشاں پھٹنے کے بعد فی الحال علاقے میں سونامی کا کوئی خطرہ سامنے نہیں آیا۔

لاوے کے اخراج کی آواز سینکڑوں کلومیٹر دور تک سنی گئی

آناک کراکاٹوا سے ہونے والے اخراج کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لاوا فوارے کی طرح فضا میں بلند ہوا، جبکہ دھماکے کی آواز تقریباً 700 کلومیٹر دور تک سنائی دینے کی اطلاعات ہیں۔

6 ستمبر کو بھی لاوا نکلنے سے متعلق دو نئی آوازیں سنے جانے کی اطلاع سامنے آئی ہے، جس کے بعد آتش فشاں کی سرگرمی پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

آناک کراکاٹوا کی تاریخ کیا ہے؟

آناک کراکاٹوا دراصل مشہور آتش فشاں کراکاٹوا کی تباہ کن سرگرمی کے بعد وجود میں آنے والا آتش فشانی جزیرہ ہے۔ 1883 میں کراکاٹوا کے بڑے پیمانے پر پھٹنے کے بعد خطے میں شدید تباہی ہوئی تھی، جبکہ موجودہ آناک کراکاٹوا بعد کے عرصے میں سمندر سے ابھرا۔

آناک کراکاٹوا کئی دہائیوں سے وقفے وقفے سے آتش فشانی سرگرمی دکھاتا رہا ہے۔ 2018 میں اس کے ایک بڑے پھٹنے کے نتیجے میں آتش فشاں کا ایک حصہ سمندر میں گر گیا تھا، جس کے بعد سونامی نے جاوا اور سماٹرا کے ساحلی علاقوں کو متاثر کیا اور 400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حالیہ سرگرمی کے بعد حکام صورتحال کی نگرانی جاری رکھے ہوئے ہیں، جبکہ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سرکاری اداروں کی جانب سے جاری ہونے والی تازہ ہدایات پر عمل کریں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter