وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں توڑنے کی کوشش کی گئی، مگر وہ دباؤ کے سامنے نہیں جھکے، کارکنوں کو جدوجہد جاری رکھنے کا پیغام بھی دیا۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ملک میں طویل عرصے سے جاری دو خاندانوں کی سیاست کو بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے توڑا۔
سہیل آفریدی ان دنوں سندھ کے دورے پر ہیں۔ عمرکوٹ میں پی ٹی آئی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ملکی سیاست، عدلیہ اور بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری سمیت مختلف معاملات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
’عمران خان کو جیل میں توڑنے کی کوشش کی گئی‘
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے خطاب میں کہا کہ ماضی میں چور اور ڈاکو جیل میں بیٹھ کر ڈیل کیا کرتے تھے، لیکن پہلی مرتبہ انہیں ایسا لیڈر ملا جس نے ان کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مخالفین یہ سمجھتے تھے کہ پی ٹی آئی کے لیڈر کو جیل میں ڈال کر توڑ دیا جائے گا، تاہم ایسا نہیں ہوا۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان نے ملک میں دو خاندانوں کی سیاست کے خلاف آواز اٹھائی اور ایک نئی سیاسی سوچ کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ پارٹی اور بانی پی ٹی آئی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں۔
عدالتی فیصلے پر عمل نہ ہوا تو پھر فیصلہ سڑکوں پر ہوگا، سہیل آفریدی
عدلیہ سے متعلق حکومت پر تنقید
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے موجودہ حکومت کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک ’’جعلی حکومت‘‘ سپریم کورٹ کے حکم کو بھی ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتی ہے۔ سہیل آفریدی نے عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہ ہونے کو عدلیہ کی تذلیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ مفلوج ہوگئی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پارٹی رہنماؤں کو انصاف نہیں دیا جا رہا اور پی ٹی آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کو مختلف مقدمات اور قانونی کارروائیوں کا سامنا ہے۔
’بانی پی ٹی آئی کو جیل سے باہر نکالنا ہے‘
سہیل آفریدی نے اپنے خطاب میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کو پارٹی کی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں جیل سے باہر نکالنا ہے۔
انہوں نے کارکنوں کو خبردار کیا کہ اگر وہ سیاسی طور پر خاموش یا غیرمتحرک رہے تو ان کے بقول لٹیرے اقتدار میں رہیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ سیاسی جدوجہد میں فعال کردار ادا کریں اور پارٹی کے مؤقف کو عوام تک پہنچائیں۔
سہیل آفریدی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی برقرار ہے، جبکہ بانی پی ٹی آئی کی جیل میں موجودگی اور ان کے خلاف جاری مقدمات بھی ملکی سیاست میں مسلسل اہم موضوع بنے ہوئے ہیں۔
