اسلام آباد: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عدلیہ کے فیصلے پر من و عن عملدرآمد کیا جانا چاہیے، اگر عدالتی فیصلے پر عمل نہ ہوا تو پھر فیصلہ سڑکوں پر ہوگا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے 92 ارکان ان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہیں اور انہیں کوئی خرید نہیں سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے نظریے پر قائم ہیں اور کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کسی قسم کی ڈیل نہیں کریں گے بلکہ عدلیہ کے ذریعے باہر آنا چاہتے ہیں۔ سہیل آفریدی کے مطابق بانی پی ٹی آئی علاج کے بعد اسپتال سے واپس جیل جائیں گے اور ان کے بیرون ملک جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
مولانا فضل الرحمان سے متعلق انہوں نے کہا کہ پاور شیئرنگ پر کوئی بات نہیں ہوئی، تاہم مثبت بات چیت جاری ہے اور جو بھی ان کے مؤقف کے ساتھ آئے گا، اس سے ہاتھ ملائیں گے۔
لانگ مارچ کا مقصد عمران خان کی رہائی نہیں، ان تک رسائی ہے: سہیل آفریدی
نئے صوبوں کے معاملے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ اس حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے بات ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق نئے صوبے بنانے کے لیے 25 ٹریلین روپے درکار ہوں گے اور وہ اس معاملے پر موجودہ حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ انہیں نو فلائی لسٹ میں شامل کیا گیا ہے اور ان کا پاسپورٹ بھی بلاک ہے۔ ان کے مطابق 27 ستمبر کا احتجاج صرف ایک روزہ احتجاج نہیں بلکہ اس کے لیے مکمل منصوبہ بندی کی جا چکی ہے۔
