پاکستان اور ایران کی قیادت کے درمیان کشیدگی کم کرنے، تنازع کے مذاکراتی حل اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اسلام آباد: چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایران کا دورہ مکمل ہوگیا، جس کے دوران انہوں نے ایرانی صدر سمیت اہم سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقاتوں میں خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنے، تنازع کے جلد خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق مختلف اقدامات پر جامع گفتگو کی گئی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ دورہ ایران کے دوران وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔ پاکستان کی جانب سے یہ دورہ ایسے وقت میں اہمیت اختیار کرگیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے باعث علاقائی امن، تجارت اور اہم بحری راستوں کی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
ایرانی قیادت سے اہم ملاقاتیں
آئی ایس پی آر کے مطابق ایران پہنچنے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا استقبال ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے کیا۔
دورے کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے نمائندے محسن رضائی، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف، وزیر خارجہ اور وزیر داخلہ سمیت اہم حکام سے ملاقاتیں کیں۔
ان ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور کے ساتھ ساتھ خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اور جاری تنازع پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
کشیدگی میں مزید اضافے کی روک تھام پر زور
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقاتوں میں فریقین نے کشیدگی میں مزید اضافے کی روک تھام اور تنازع کو جلد ختم کرنے کے لیے ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا۔ دونوں جانب سے اس بات پر بھی گفتگو کی گئی کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو کس طرح آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔
پاکستان نے ماضی میں بھی علاقائی تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس تناظر میں دورہ ایران کو دونوں ممالک کے درمیان رابطوں اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے حوالے سے اہم قرار دیا گیا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی وزیر خارجہ میں رابطہ، خطے کی صورتحال پر گفتگو
آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر تبادلہ خیال
ملاقاتوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر بھی بات چیت ہوئی۔ آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والا ایک اہم بحری راستہ ہے اور عالمی توانائی کی ترسیل میں اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔
اس لیے اس راستے کی صورتحال صرف خطے کے ممالک ہی نہیں بلکہ عالمی توانائی اور تجارتی منڈیوں کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ پاکستان اور ایران کے درمیان ہونے والی گفتگو میں اس معاملے سے متعلق اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔
مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل پر اتفاق
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقاتوں کے دوران علاقائی امن کے فروغ اور تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے طریقۂ کار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں جانب سے سفارتی ذرائع کے ذریعے مسائل حل کرنے اور کشیدگی میں کمی لانے کی اہمیت پر گفتگو ہوئی۔
پاکستانی وفد کی ملاقاتوں کے حوالے سے آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ایرانی قیادت نے مذاکرات، کشیدگی میں کمی اور تنازع کے پُرامن حل میں سہولت کاری کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار اور مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔
یوں فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے کے ساتھ ساتھ علاقائی کشیدگی کم کرنے، سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر مشاورت کے حوالے سے اہم پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔
