چین میں 63 سالہ لی گیو یو نے ایک گھر کی دیکھ بھال کا وعدہ پورا کرنے کے لیے برسوں تنہائی میں گزار دیے، پھر پولیس اور حکام کی مدد سے 25 سال بعد اپنے خاندان تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔
چین کے ایک شخص کی دہائیوں پر محیط تنہائی اور وعدہ نبھانے کی کہانی نے لوگوں کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ 63 سالہ لی گیو یو نے بہتر روزگار کی تلاش میں کئی دہائیاں قبل اپنا آبائی گھر چھوڑا تھا، تاہم حالات انہیں ایسی جگہ لے گئے جہاں انہوں نے ایک گھر کی دیکھ بھال کرتے ہوئے زندگی کے کئی سال تنہائی میں گزار دیے۔
حالیہ عرصے میں ان کی سرکاری رجسٹریشن بھی مکمل کی گئی، جس کے بعد وہ طویل عرصے بعد اپنے خاندان سے دوبارہ ملنے میں کامیاب ہوگئے۔
روزگار کی تلاش میں آبائی گھر چھوڑا
لی گیو یو کا تعلق چین کے صوبہ سیچوان سے ہے۔ انہوں نے 1987 میں، جب ان کی عمر صرف 24 برس تھی، بہتر روزگار کی تلاش میں اپنا آبائی علاقہ چھوڑ دیا اور صوبہ گوانگ ڈونگ منتقل ہوگئے۔
وقت گزرنے کے ساتھ ان کا اپنے دو بھائیوں سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ اگرچہ وہ 1997 میں ایک مرتبہ اپنے گھر واپس آئے، لیکن اس وقت ان کے بھائی وہاں موجود نہیں تھے کیونکہ وہ روزگار کے سلسلے میں کسی دوسرے مقام پر گئے ہوئے تھے۔
لی گیو یو نے خاندان کے لیے ایک فون نمبر بھی چھوڑا تھا، تاہم بعد میں گھر والوں کی جانب سے کئی مرتبہ رابطے کی کوشش کے باوجود ان سے بات نہ ہوسکی۔
ہوٹل کی مالکن سے ملاقات اور نیا موڑ
1998 میں لی گیو یو چین کے صوبہ ہیلونگ جیانگ کے دارالحکومت ہاربن پہنچے، جہاں ان کی ملاقات ایک ہوٹل کی مالکن لین سے ہوئی۔
لین نے انہیں اپنے ہوٹل میں ملازمت دے دی۔ تاہم تقریباً تین سال بعد ہوٹل بند ہوگیا۔ اس کے بعد لین نے لی گیو یو کو ایک پہاڑی علاقے میں واقع گھر کی دیکھ بھال کی پیشکش کی۔
لین نے انہیں یقین دلایا تھا کہ وہ جلد ان سے رابطہ کریں گی اور انہیں گھر واپس جانے کی اجازت دے دیں گی۔ تاہم حالات کچھ ایسے بنے کہ یہ ملاقات برسوں تک نہ ہوسکی۔
ایک جملے کو 26 سال تک نبھاتے رہے
لین اگلے کئی برس بیجنگ اور روس میں اپنے کاروباری معاملات میں مصروف رہیں۔ بالآخر مئی 2026 میں وہ اس پہاڑی گھر کا دورہ کرنے پہنچیں کیونکہ وہ اسے فروخت کرنا چاہتی تھیں۔
مگر وہاں پہنچ کر لین حیران رہ گئیں۔ لی گیو یو اب بھی اسی گھر میں موجود تھے اور برسوں قبل کیے گئے وعدے کے مطابق اس کی دیکھ بھال کررہے تھے۔
لین نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ لی گیو یو اتنے طویل عرصے تک وہاں قیام کریں گے۔ ان کے مطابق انہیں احساس ہوا کہ ان کے ایک جملے کی وجہ سے وہ شخص برسوں تک وہاں موجود رہا۔
چین: طالب علم امتحان میں اے آئی اسمارٹ چشمہ استعمال کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا
تنہائی میں کھیتی باڑی اور مویشیوں کی دیکھ بھال
اس طویل عرصے کے دوران لی گیو یو نے تقریباً مکمل تنہائی میں زندگی گزاری۔ وہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے مکئی اگاتے، مویشیوں کی دیکھ بھال کرتے اور مچھلیاں پکڑتے رہے۔
ان کے رہائش پذیر گھر سے قریبی دکانیں بھی تقریباً 3 کلومیٹر کے فاصلے پر تھیں۔ مزید مشکل یہ تھی کہ ان کا شناختی کارڈ 2005 میں ہی ایکسپائر ہوچکا تھا۔
نئے شناختی کارڈ کے حصول کے لیے انہیں اپنے آبائی علاقے واپس جانا ضروری تھا، لیکن ان کے پاس وہاں تک سفر کرنے کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی۔ یوں گھر واپسی کا معاملہ مزید طویل ہوتا چلا گیا۔
25 سال بعد بھائیوں سے ملاقات
لین سے 25 سال بعد دوبارہ ملاقات کے بعد لی گیو یو نے اپنی سب سے بڑی خواہش کا اظہار کیا کہ وہ اپنے آبائی گھر واپس جاکر اپنے بھائیوں سے ملنا چاہتے ہیں۔
چونکہ ان کے پاس شناختی کارڈ موجود نہیں تھا اور ٹرین یا ہوائی سفر کے لیے شناختی دستاویز ضروری تھی، اس لیے لین نے پولیس حکام سے رابطہ کیا۔ پولیس کی مدد سے ان کے لیے ٹرین کے سفر کا انتظام ممکن ہوا۔
لی گیو یو نے تقریباً 40 گھنٹے پر محیط طویل سفر کیا۔ وہ چونگ چنگ پہنچے، جہاں پولیس افسران اور حکومتی عملے نے انہیں اپنے ساتھ لیا اور ان کے آبائی علاقے تک پہنچایا۔
بالآخر وہ اپنے بھائیوں سے ملنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس ملاقات کے بعد وہ اپنے آبائی قصبے بھی گئے، جہاں لین بھی ان کے ہمراہ تھیں اور ان کا نیا شناختی کارڈ بنوانے کا عمل مکمل کیا گیا۔
لی گیو یو کی یہ کہانی ایک ایسے شخص کی غیر معمولی ثابت قدمی کو ظاہر کرتی ہے جس نے ایک معمولی سمجھے جانے والے وعدے کو بھی زندگی بھر کی ذمہ داری سمجھ کر نبھایا، یہاں تک کہ کئی دہائیوں بعد وہ دوبارہ اپنے خاندان تک پہنچنے میں کامیاب ہوگیا۔
