کراچی: نجی بینک کے اے ٹی ایم سے 53 لاکھ روپے کی چوری، آپریشن منیجر ملوث نکلا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

آرام باغ روڈ پر اے ٹی ایم سے 53 لاکھ 70 ہزار روپے چوری، پولیس نے آپریشن منیجر اور اس کے دوست کو گرفتار کرکے رقم برآمد کرلی

latest urdu news

کراچی میں نجی بینک کے اے ٹی ایم سے لاکھوں روپے کی چوری کی واردات کا معمہ حل ہوگیا۔ پولیس کے مطابق 7 اگست کی درمیانی شب آرام باغ روڈ پر واقع نجی بینک کے اے ٹی ایم سے 53 لاکھ 70 ہزار روپے چوری کیے گئے، جس میں بینک کا آپریشن منیجر اور اس کا ایک دوست مبینہ طور پر ملوث نکلے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کو سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے گرفتار کیا گیا، جبکہ چوری کی گئی رقم میں سے 29 لاکھ 74 ہزار روپے برآمد کرلیے گئے ہیں۔

اے ٹی ایم کا لاک کھول کر رقم نکالی گئی

پولیس کے مطابق ملزمان نے اے ٹی ایم کا لاک کھول کر اس میں موجود رقم نکالی۔ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا کہ واردات میں بینک کے اندرونی نظام سے واقفیت رکھنے والے شخص کا کردار بھی شامل تھا۔

حکام کے مطابق بینک کا آپریشن منیجر اس واردات میں اپنے دوست کے ساتھ ملوث تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں نے مبینہ طور پر منصوبہ بندی کے تحت اے ٹی ایم تک رسائی حاصل کی اور وہاں موجود رقم چوری کرلی۔

چونکہ بینک کا آپریشن منیجر خود بینک کے آپریشنز سے متعلق ذمہ داریاں انجام دیتا تھا، اس لیے پولیس کی تحقیقات میں اس کا کردار خاص طور پر زیرِ تفتیش رہا۔

چوریوں سے تنگ شہریوں نے مبینہ چوروں کو پکڑ کر ڈکٹ ٹیپ سے باندھ دیا، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

سی سی ٹی وی کیمرے کو چیونگم سے ڈھانپ دیا

پولیس حکام کے مطابق ملزمان نے واردات کے دوران اے ٹی ایم میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے کو بھی ناکارہ بنانے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے کیمرے پر چیونگم لگا دی گئی تاکہ واردات کی ویڈیو ریکارڈ نہ ہوسکے۔

تاہم پولیس نے بعد ازاں دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے ملزمان تک رسائی حاصل کی۔ حکام کے مطابق تفتیش کے دوران واردات میں بینک کے آپریشن منیجر اور اس کے دوست کے ملوث ہونے کا انکشاف ہوا۔

چوری شدہ رقم کی برآمدگی

پولیس کا کہنا ہے کہ آپریشن منیجر نے چوری کی گئی رقم اپنے دوست کے پاس رکھوائی تھی۔ کارروائی کے دوران دونوں ملزمان سے مجموعی طور پر 29 لاکھ 74 ہزار روپے برآمد کرلیے گئے ہیں۔

تاہم پولیس کے مطابق چوری کی گئی مکمل رقم تاحال برآمد نہیں ہوسکی، اس لیے باقی رقم کی تلاش اور اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

مزید تحقیقات جاری

پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمان سے مزید تفتیش کی جارہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ واردات کی منصوبہ بندی کب اور کیسے کی گئی اور چوری کی باقی رقم کہاں موجود ہے۔

تفتیش میں یہ پہلو بھی دیکھا جارہا ہے کہ آیا دونوں ملزمان نے اکیلے واردات کی یا اس میں مزید افراد بھی کسی مرحلے پر معاونت میں شامل تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر کارروائی آگے بڑھائی جارہی ہے، جبکہ برآمد شدہ رقم اور دیگر شواہد کو تفتیش کا حصہ بنا لیا گیا ہے۔ مزید قانونی کارروائی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کی جائے گی۔

شیئر کریں:

زیادہ پڑھی جانے والی خبریں

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter