کراچی ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کی کارروائی، ملائیشیا جانے والے دو مسافروں پر جعلی طبی دستاویزات کے ذریعے اصل سفری مقصد چھپانے کا الزام
وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مختلف کارروائیوں کے دوران خاتون سمیت تین مسافروں کو آف لوڈ کردیا۔ حکام کے مطابق ملائیشیا جانے والے دو مسافر مبینہ جعلی طبی دستاویزات کے ذریعے اپنے اصل سفری مقصد کو چھپا رہے تھے، جبکہ باکو جانے والی ایک خاتون کے سفر سے متعلق ممکنہ جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ کے خدشات سامنے آئے۔
ایف آئی اے امیگریشن حکام کے مطابق تینوں افراد کو مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے متعلقہ سرکل کے حوالے کردیا گیا ہے۔
ملائیشیا جانے والے دو مسافروں سے تفتیش
حکام کے مطابق ملائیشیا جانے والے مسافر وسیم حیدر نے ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران بتایا کہ وہ ریڑھ کی ہڈی کے علاج کے لیے ملائیشیا جارہا ہے، جبکہ ساجد پرویز کو اس نے اپنا اٹینڈنٹ قرار دیا۔
تاہم تفصیلی تفتیش کے دوران دونوں مسافروں نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ ان کا اصل مقصد ملائیشیا میں ملازمت حاصل کرنا تھا۔ ایف آئی اے کے مطابق تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ دونوں کے لیے وزٹ ویزے اور ایئر ٹکٹس مبینہ سہولت کاروں ریحان اور عمران نے حاصل کیے تھے۔
جعلی MRI رپورٹ تیار کرنے کا الزام
ایف آئی اے حکام کے مطابق مسافروں کے اصل سفری مقصد کو چھپانے کے لیے وسیم حیدر کے نام سے مبینہ طور پر جعلی MRI رپورٹ بھی تیار کی گئی تھی۔ دونوں مسافروں نے تفتیش کے دوران بتایا کہ انہیں ایئرپورٹ پر حکام کے سامنے یہ مؤقف اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی تھی کہ وہ طبی علاج کے لیے ملائیشیا جارہے ہیں۔
حکام کے مطابق وسیم حیدر اور ساجد پرویز کو پرواز سے آف لوڈ کرنے کے بعد مزید تحقیقات کے لیے سہولت کاروں ریحان اور عمران سمیت انسدادِ انسانی اسمگلنگ سرکل کراچی کے حوالے کردیا گیا ہے۔
باکو جانے والی خاتون کا سفر مشکوک قرار
دوسری کارروائی میں ایف آئی اے نے آذربائیجان کے شہر باکو جانے والی خاتون مسافر حمنہ شکیل کو بھی مزید پوچھ گچھ کے لیے روک لیا۔
حکام کے مطابق ابتدائی تفتیش میں خاتون نے بتایا کہ وہ ایک ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے رابطے میں آنے والے شخص سے ملاقات کے لیے باکو جارہی تھی۔ خاتون کے مطابق مذکورہ شخص نے اسے اس ملاقات کے عوض مبینہ طور پر 3 لاکھ روپے دینے اور سفر و رہائش کے اخراجات برداشت کرنے کی پیشکش کی تھی۔
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی ایگزیٹ اسٹمپ والے مسافر کو آف لوڈ کر دیا گیا
ایف آئی اے کے مطابق خاتون کے موبائل فون کی رضاکارانہ جانچ کے دوران بعض مشتبہ چیٹس اور رابطے سامنے آئے، جن میں رقم کے عوض جنسی ملاقاتوں سے متعلق گفتگو موجود ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ماضی میں استحصال اور تشدد کے دعوے
حکام کے مطابق تفتیش کے دوران خاتون نے ماضی میں اپنے مبینہ جنسی استحصال اور جسمانی تشدد سے متعلق بھی معلومات فراہم کیں۔ اس کے علاوہ کراچی میں ایک مبینہ نیٹ ورک کے ذریعے اسے دیگر خواتین کے ساتھ رکھنے اور استحصال کیے جانے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔
ایف آئی اے کے مطابق ان معلومات کی روشنی میں خاتون کے معاملے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کی جارہی ہیں، جن میں ممکنہ جنسی استحصال، انسانی اسمگلنگ اور کسی منظم نیٹ ورک کے ملوث ہونے کے امکانات شامل ہیں۔
خاتون کو متاثرہ فرد کے طور پر بھی جانچا جارہا ہے
حکام کا کہنا ہے کہ حمنہ شکیل کے معاملے میں صرف سفری دستاویزات یا مشکوک سفر کی تفتیش نہیں کی جارہی بلکہ یہ پہلو بھی دیکھا جارہا ہے کہ آیا وہ خود کسی استحصال یا انسانی اسمگلنگ کا شکار تو نہیں رہی۔
اسی تناظر میں خاتون کو ممکنہ متاثرہ فرد کے طور پر بھی قانونی اور حفاظتی پہلوؤں سے جانچا جارہا ہے۔ حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی معاملے کی حتمی نوعیت اور ممکنہ ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا تعین کیا جائے گا۔
ایف آئی اے کی حالیہ کارروائی ایک بار پھر اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ بیرون ملک سفر کے دوران مشکوک دستاویزات، غیر واضح سفری مقاصد اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق خدشات کی صورت میں امیگریشن حکام مسافروں سے تفصیلی پوچھ گچھ کرسکتے ہیں۔ تاہم زیرِ تفتیش افراد کے خلاف عائد الزامات کو عدالت سے حتمی فیصلہ آنے تک ثابت شدہ جرم قرار نہیں دیا جاسکتا۔
