حافظ نعیم الرحمان کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، ٹیکس نظام اور حکومتی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے عوامی احتجاج کا دائرہ وسیع کرنے کا اعلان
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم مصنوعات کی بلند قیمتوں، ٹیکسوں اور حکومتی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے 16 اگست کو ملک کے چاروں صوبوں میں بیک وقت دھرنے دینے کا اعلان کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ عوام کو درپیش مسائل کے خلاف احتجاج جاری رکھا جائے گا اور تمام سیاسی جماعتوں کو بھی عوامی مسائل پر آواز اٹھانی چاہیے۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کو درپیش معاشی مشکلات اور دیگر بنیادی مسائل کے حل کے لیے احتجاج کررہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو عوام پر معاشی بوجھ کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
مکہ دفاعی معاہدے کا خیر مقدم
حافظ نعیم الرحمان نے مکہ میں ہونے والے دفاعی معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے عالم اسلام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کوشش ہونی چاہیے کہ ایران سمیت دیگر ممالک بھی اس معاہدے میں شامل ہوں اور مکہ دفاعی معاہدے کے ذریعے ایک مضبوط اور مؤثر نیٹ ورک تشکیل دیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں امن و امان قائم کرنا حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ صوبے میں پائیدار امن کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بیرونی سازشیں اکثر اندرونی حالات کی وجہ سے کامیاب ہوتی ہیں۔
پیٹرول کی قیمت اور پٹرولیم لیوی پر حکومت کو تنقید
امیر جماعت اسلامی نے پیٹرول کی قیمتوں پر حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر ہونی چاہیے، تاہم موجودہ قیمتیں عوام کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہی ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ جنگ ختم ہونے کے باوجود پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متوقع کمی نہیں کی گئی، جبکہ حکومت نے پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی کی مد میں بڑی آمدنی حاصل کی ہے۔ ان کے بقول حکومت لیوی کی آڑ میں اپنی مبینہ کرپشن چھپا رہی ہے۔
پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج، 510 مقامات پر دھرنوں کا اعلان
انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حوالے سے بھی سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ادارے کے عملے کی جانب سے 1300 ارب روپے کی کرپشن کی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے افراد سے بھی ٹیکس وصول کیا جارہا ہے جن کی آمدنی ہی نہیں، تاہم انہوں نے ان دعوؤں کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
آئی پی پیز اور بجلی کے بحران پر بھی اعتراض
حافظ نعیم الرحمان نے بجلی کے شعبے کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی پیدا کرنے پر کم ادائیگی اور بجلی نہ بنانے پر زیادہ اخراجات کا بوجھ برداشت کیا گیا، جس سے حکومتی نااہلی اور کرپشن میں اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کے معاملے پر بھی عوام کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا ہوگی۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے گی۔
انہوں نے 7 اگست کو جماعت اسلامی کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس دوران بڑی شاہراہوں پر احتجاج کیا گیا، تاہم ان کے مطابق ایمبولینسوں کی آمدورفت میں رکاوٹ نہیں ڈالی گئی۔
16 اگست کو چاروں صوبوں میں بیک وقت دھرنے
حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ 16 اگست کو ملک کے چاروں صوبوں میں بیک وقت دھرنے دیے جائیں گے۔ ان کے مطابق پنجاب میں وزیراعلیٰ ہاؤس جبکہ سندھ اور خیبر پختونخوا میں گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاج کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں احتجاج سڑکوں پر کیا جاتا ہے اور یہ اعتراض درست نہیں کہ سڑکوں پر احتجاج سے عوام کو مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام سے ان کے حقوق اور حق حکمرانی چھین لیے جائیں تو وہ اپنے مطالبات کے لیے میدان میں نکلنے پر مجبور ہوں گے۔
جماعت اسلامی کے امیر نے تمام سیاسی جماعتوں سے احتجاج میں ساتھ دینے کی اپیل بھی کی۔
سیاسی اتحادوں اور آئینی معاملات پر مؤقف
ایک سوال کے جواب میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی تحفظِ آئین تحریک کے ساتھ رابطے میں ہے، تاہم ماضی کے سیاسی اتحادوں کے نتائج اچھے نہیں رہے۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کو اپنی سطح پر بھی عوامی مسائل کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے اور مشترکہ مسائل پر بات کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ایک دوسرے پر عائد کیے جانے والے الزامات سے متعلق انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتیں جو الزامات عائد کررہی ہیں، ان میں حقیقت موجود ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کے نظام کی ناکامی سے متعلق بیان پر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اگر ناکامی کا اعتراف کیا گیا ہے تو پھر پورے نظام کا ازسرنو جائزہ لینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامی یونٹس میں اضافے کا طریقہ کار آئین میں موجود ہے، اس لیے آئین سے ماورا کوئی بھی اقدام مزید شکوک و شبہات کو جنم دے سکتا ہے۔
