کینیڈا کے شہر اوٹاوا میں ہونے والے دنیا کے مشکل ترین برداشت کے مقابلوں میں سے ایک میں پاکستانی ایتھلیٹ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
پاکستانی خاتون ایتھلیٹ فوزیہ ہیمانی نے ایک بار پھر اپنی غیرمعمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے دنیا کے مشکل ترین برداشت (Endurance) پر مبنی کھیلوں میں شمار ہونے والے فل آئرن مین ٹرائی ایتھلون چیلنج کو کامیابی سے مکمل کر لیا۔ کینیڈا کے شہر اوٹاوا میں منعقد ہونے والے اس مقابلے میں انہوں نے بہترین جسمانی اور ذہنی فٹنس کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ اعزاز چوتھی مرتبہ اپنے نام کیا۔
فوزیہ ہیمانی کی یہ کامیابی نہ صرف ان کی مسلسل محنت اور عزم کی عکاس ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کرنے والی خواتین ایتھلیٹس کے لیے بھی ایک اہم سنگ میل تصور کی جا رہی ہے۔
آئرن مین چیلنج کیا ہے؟
فل آئرن مین ٹرائی ایتھلون دنیا کے مشکل ترین انڈیورنس مقابلوں میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں شرکاء کو بغیر کسی وقفے کے تین مختلف مراحل مکمل کرنا ہوتے ہیں۔
اس مقابلے میں ایتھلیٹس کو:
- 3.8 کلومیٹر تیراکی (سوئمنگ)
- 180 کلومیٹر سائیکلنگ
- 42.2 کلومیٹر مکمل میراتھون دوڑ
مسلسل انجام دینی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس چیلنج کو جسمانی قوت، ذہنی مضبوطی اور غیرمعمولی برداشت کا امتحان سمجھا جاتا ہے۔
فوزیہ ہیمانی نے چیلنج کتنے وقت میں مکمل کیا؟
فوزیہ ہیمانی نے فل آئرن مین چیلنج 15 گھنٹے، 22 منٹ اور 35 سیکنڈز میں مکمل کیا۔
ان کی مختلف مراحل میں کارکردگی درج ذیل رہی:
- سوئمنگ: ایک گھنٹہ 45 منٹ
- سائیکلنگ: 7 گھنٹے 7 منٹ
- میراتھون دوڑ: 6 گھنٹے 11 منٹ
مسلسل کئی گھنٹوں پر محیط اس سخت مقابلے کو کامیابی سے مکمل کرنا اعلیٰ درجے کی فٹنس، مستقل مزاجی اور طویل تیاری کا تقاضا کرتا ہے۔
فوزیہ ہیمانی کا شاندار ریکارڈ
فوزیہ ہیمانی اس سے قبل بھی متعدد بین الاقوامی آئرن مین مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کر چکی ہیں۔ وہ 2021، 2024 اور 2025 میں بھی فل آئرن مین چیلنج کامیابی سے مکمل کر چکی تھیں، جبکہ اوٹاوا میں ہونے والا حالیہ مقابلہ ان کے کیریئر کا چوتھا فل آئرن مین ثابت ہوا۔
اس کے علاوہ وہ پانچ مرتبہ ہاف آئرن مین چیلنج بھی مکمل کر چکی ہیں، جو ان کی مستقل محنت اور برداشت کی صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔
پاکستانی خواتین کے لیے حوصلہ افزا مثال
فوزیہ ہیمانی کی یہ کامیابی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستانی خواتین کھیلوں کے میدان میں بھی عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کی مسلسل کامیابیاں نوجوان کھلاڑیوں، خصوصاً خواتین، کے لیے ایک مثبت مثال ہیں کہ محنت، نظم و ضبط اور مستقل مزاجی کے ذریعے مشکل ترین عالمی مقابلوں میں بھی نمایاں کارکردگی دکھائی جا سکتی ہے۔
فوزیہ ہیمانی کی تازہ کامیابی ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ پاکستانی ایتھلیٹس بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ برداشت پر مبنی کھیلوں میں ان کی مسلسل کامیابیاں مستقبل کے کھلاڑیوں کے لیے بھی حوصلہ افزا پیغام ہیں۔
