امریکا میں نومولود بچوں کی مبینہ تبدیلی، 38 سال بعد دو خاندانوں نے اسپتال پر مقدمہ دائر کر دیا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

نارتھ ڈکوٹا: امریکی ریاست نارتھ ڈکوٹا میں تقریباً چار دہائیاں قبل پیش آنے والی ایک مبینہ طبی غفلت کا انکشاف سامنے آیا ہے، جہاں دو خاندانوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اسپتال نے 1988 میں پیدا ہونے والے دو نومولود بچوں کو غلطی سے ایک دوسرے کے والدین کے حوالے کر دیا تھا۔

latest urdu news

عدالتی دستاویزات کے مطابق دونوں بچوں کی پیدائش 26 جنوری 1988 کو ایک ہی اسپتال میں ہوئی۔ خاندانوں کا مؤقف ہے کہ اسپتال کے عملے نے شناخت میں غلطی کرتے ہوئے بچوں کی تبدیلی کر دی، جس کے باعث دونوں اپنی حیاتیاتی فیملیوں کے بجائے دوسرے خاندانوں میں پرورش پاتے رہے۔

متاثرہ افراد میں سے ایک نے بتایا کہ اسے بچپن سے ہی محسوس ہوتا تھا کہ اس کی شکل و صورت خاندان کے دیگر افراد سے مختلف ہے۔ بعد ازاں شبہ کی بنیاد پر کرائے گئے ڈی این اے ٹیسٹ سے معلوم ہوا کہ وہ اپنے موجودہ خاندان کا حیاتیاتی فرد نہیں ہے، جس کے بعد دونوں متاثرہ افراد نے پہلی بار اپنے حقیقی والدین سے آن لائن رابطہ کیا، تاہم وہ اب تک آمنے سامنے ملاقات نہیں کر سکے۔

امریکا میں طالب علم کی ریکارڈ ساز کارکردگی، 11.99 جی پی اے کے بعد گریڈنگ نظام میں تبدیلی پر غور

متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک سال تک اسپتال کے ساتھ مالی تصفیے کی کوشش کی، لیکن بات نہ بننے پر قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا اور اسپتال کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا۔

دوسری جانب اسپتال انتظامیہ نے واقعے کے ممکنہ جذباتی اثرات کا اعتراف کیا ہے، تاہم قانونی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے عدالت سے مقدمہ خارج کرنے کی درخواست دے دی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter