لاہور: پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے بتایا ہے کہ صوبے کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے، تاہم دریائے چناب کے بعض مقامات پر نچلے درجے کی سیلابی کیفیت برقرار ہے، جبکہ آئندہ چند روز کے دوران پانی کی سطح میں اضافے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے چناب میں خانکی کے مقام پر پانی کی آمد 1 لاکھ 25 ہزار کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 17 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا، جبکہ قادر آباد میں پانی کی آمد 1 لاکھ 46 ہزار کیوسک اور اخراج 1 لاکھ 27 ہزار کیوسک ہے، جہاں نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ دریائے چناب کے مرالہ، تریموں اور پنجند، دریائے راوی کے جسڑ، شاہدرہ، ہیڈ سدھنائی اور بلوکی، دریائے ستلج کے گنڈا سنگھ والا، سلیمانکی اور ہیڈ اسلام جبکہ دریائے سندھ کے تربیلا، کالا باغ، تونسہ اور چشمہ کے مقامات پر پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔ اسی طرح ڈیرہ غازی خان کے رودکوہیوں میں بھی فی الحال صورتحال نارمل ہے۔
پی ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ 24 جولائی تک پنجاب کے مختلف دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔ دریائے راوی اور چناب سے ملحقہ ندی نالوں، جن میں بسنتر، ڈیگ، ایک، پلکھو، بھمبر، ہلسی اور ڈورا شامل ہیں، میں سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے، جبکہ ڈیرہ غازی خان کے رودکوہی علاقوں میں فلیش فلڈنگ کا خطرہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
سلال ڈیم کے گیٹس کھولنے کا فیصلہ، دریائے چناب میں پانی بڑھنے کا امکان
ادارے کے مطابق لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، سرگودھا، اوکاڑہ، ساہیوال، بہاولنگر اور راولپنڈی ڈویژن میں اربن فلڈنگ کا خدشہ بھی موجود ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے دریاؤں کے کناروں اور نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور ضرورت پڑنے پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب نے ممکنہ متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے ہیں، جہاں متاثرہ افراد کو خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
