اسلام آباد: وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام میں تبدیلی پر غور کر رہی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین سے متعلق سفارشات جلد وزیراعظم کو پیش کی جائیں گی۔
وزیرِ پیٹرولیم کی زیرِ صدارت پیٹرولیم پرائسنگ اصلاحات کمیٹی کے اجلاس میں عالمی مارکیٹ کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں قیمتوں کے تعین کے مختلف طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا، جس میں روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں مقرر کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹی اپنی سفارشات وزیراعظم کو پیش کرے گی، جن کی منظوری کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا نیا نظام متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
ادھر آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی خام تیل کی قیمت تقریباً 79 ڈالر فی بیرل جبکہ برطانوی برینٹ خام تیل 86 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکا ہے۔ اسی طرح متحدہ عرب امارات کے مربن خام تیل کی قیمت بھی 83 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، عوام کو جزوی ریلیف مل گیا
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ممالک، جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے تیل کی درآمدات پر انحصار کرتے ہیں، عالمی قیمتوں میں اضافے سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک میں بھی پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کا امکان ہے۔
دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی مداخلت یا مبینہ معاہدوں کی خلاف ورزی کو قبول نہیں کرے گا، جبکہ عالمی سطح پر جاری کشیدگی نے تیل کی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کو مزید بڑھا دیا ہے۔
