سول سروسز اکیڈمی کی ایک جامع پالیسی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں اڑھائی کروڑ سے زائد بچے اب بھی اسکولوں سے باہر ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس صورتحال کی بڑی وجوہات ناکافی تعلیمی فنڈنگ، کمزور طرزِ حکمرانی، غیر مربوط نظام اور پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد کا فقدان ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قومی تعلیمی ایمرجنسی کے اعلان کو دو سال سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لانے کے لیے کی جانے والی کوششیں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکیں۔ ماہرین کے مطابق مسئلہ نئی پالیسیاں بنانے سے زیادہ ان پر مؤثر انداز میں عمل کرنے کا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد 2 کروڑ 51 لاکھ سے 2 کروڑ 60 لاکھ کے درمیان ہے، جس کے باعث ملک دنیا میں تعلیمی محرومی کا دوسرا بڑا بوجھ اٹھانے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے، حالانکہ آئین کے آرٹیکل 25-اے کے تحت ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم کا حق حاصل ہے۔
جائزے میں بتایا گیا ہے کہ ہر صوبے کو مختلف نوعیت کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ پنجاب میں سب سے زیادہ بچوں کا اسکول سے باہر ہونا بڑا مسئلہ ہے، سندھ میں پرائمری کے بعد تعلیمی سلسلہ ٹوٹ جاتا ہے اور موسمیاتی آفات بھی نظام کو متاثر کرتی ہیں، خیبرپختونخوا میں امن و امان، دشوار گزار جغرافیہ اور خواتین اساتذہ کی کمی رکاوٹ بنی ہوئی ہے، جبکہ بلوچستان میں غیر فعال اسکول، کمزور ادارے اور وسیع فاصلے تعلیم کی راہ میں بڑی مشکلات ہیں۔
پاکستان میں لاکھوں بچے تعلیم سے محروم، محنت مشقت زندگی کا حصہ بن گئی: رپورٹ
رپورٹ کے مطابق صرف پنجاب میں اسکول سے باہر بچوں کی تعداد 96 لاکھ سے ایک کروڑ 4 لاکھ کے درمیان ہے۔ ان میں تقریباً 64 لاکھ بچے ایسے ہیں جنہوں نے کبھی اسکول میں داخلہ ہی نہیں لیا، جبکہ 31 لاکھ 60 ہزار سے زائد بچے مختلف مراحل پر تعلیم ادھوری چھوڑ چکے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صرف داخلہ ہی نہیں بلکہ بچوں کو تعلیمی نظام میں برقرار رکھنا بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
