اسلام آباد: ترکیہ کے صدر Recep Tayyip Erdoğan نے کہا ہے کہ اسرائیل کو دوبارہ پورے خطے کو جنگ، تشدد اور عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ترکیہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
ترکیہ کے صدارتی دفتر کے مطابق صدر اردوان نے اپنے بیان میں کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے مذاکرات اور سفارتی رابطوں کا تسلسل انتہائی اہم ہے۔
کشیدگی میں کمی کی کوششوں کی حمایت
ترک صدر نے کہا کہ ترکیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے جاری سفارتی اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا اور ایسے تمام اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے جو تنازعات کے پرامن حل میں مددگار ثابت ہوں۔
ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہوں۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا حوالہ
رجب طیب اردوان نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد دنیا نے اطمینان کا سانس لیا ہے۔ ان کے مطابق اس پیش رفت نے خطے میں کشیدگی میں کمی کی امید پیدا کی ہے اور سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
تاہم اس مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات یا اس کے نکات کے بارے میں ترک صدر نے مزید وضاحت نہیں کی۔
ٹرمپ کا نیتن یاہو سے متعلق بیان: “وہ جانتے ہیں کہ اصل اختیار کس کے پاس ہے”
اسرائیل سے متعلق سخت مؤقف
صدر اردوان نے کہا کہ ترکیہ اسرائیل کے اقدامات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت کو ایسا کوئی موقع نہیں ملنا چاہیے کہ وہ دوبارہ پورے خطے کو جنگ اور خونریزی کی طرف لے جائے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کے ممالک اور عالمی برادری کو ایسے اقدامات کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے جو امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
ترکیہ گزشتہ کئی برسوں سے مشرقِ وسطیٰ میں مختلف تنازعات، خصوصاً غزہ، ایران اور اسرائیل سے متعلق معاملات پر فعال سفارتی کردار ادا کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ صدر اردوان متعدد مواقع پر جنگ بندی، مذاکرات اور سفارتی حل پر زور دیتے رہے ہیں اور اسرائیلی پالیسیوں پر کھل کر تنقید بھی کرتے رہے ہیں۔
حالیہ بیان بھی ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے بعد سفارتی رابطوں اور مذاکرات کی مختلف کوششیں جاری ہیں، جنہیں علاقائی امن و استحکام کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
