کراچی میں رواں سال کے دوران شہر کے مختلف علاقوں سے 13 خواتین سمیت مجموعی طور پر 200 افراد کی لاوارث لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق یہ لاشیں سڑکوں، ندی نالوں کے کناروں، جھاڑیوں، خالی مکانات اور دیگر مختلف مقامات سے ملی ہیں، تاہم بیشتر افراد کی شناخت اور ان کی موت کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہو سکیں۔
فلاحی ادارے کا کہنا ہے کہ تمام لاشوں کو قانونی کارروائی کے بعد متعلقہ اداروں کے تعاون سے منتقل کیا گیا، جبکہ شناخت کے لیے بھی معمول کے مطابق اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
جولائی کے ابتدائی دنوں میں بھی لاشیں ملیں
ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق جولائی کے پہلے چار دنوں کے دوران بھی شہر کے مختلف علاقوں سے تین مردوں کی لاوارث لاشیں برآمد ہو چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد کی شناخت بھی تاحال نہیں ہو سکی اور ان کی موت کی وجوہات کے تعین کے لیے قانونی کارروائی جاری ہے۔
فلاحی ادارے کے مطابق تمام لاشیں لاوارث حالت میں ملی ہیں، جس کے باعث ان کی شناخت اور ورثا تک رسائی ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔
ماہ وار اعداد و شمار
ایدھی فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جنوری سے جون تک شہر میں ملنے والی لاوارث لاشوں کی تفصیل درج ذیل ہے:
- جنوری میں 31 مرد اور 2 خواتین کی لاشیں برآمد ہوئیں۔
- فروری میں 23 مرد اور ایک خاتون کی لاش ملی۔
- مارچ کے دوران 22 مرد اور 3 خواتین کی لاشیں ملیں۔
- اپریل میں 30 مردوں کی لاشیں برآمد ہوئیں۔
- مئی کے دوران 40 مردوں کی لاشیں مختلف مقامات سے ملیں۔
- جون میں 41 مرد اور 7 خواتین کی لاشیں برآمد کی گئیں۔
ان اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اب تک مجموعی طور پر 187 مردوں اور 13 خواتین سمیت 200 افراد کی لاشیں شہر کے مختلف علاقوں سے برآمد ہو چکی ہیں۔
شناخت اور موت کی وجوہات تاحال معمہ
ایدھی حکام کے مطابق بیشتر لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکی، جبکہ متعدد افراد کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ وہ نشے کے عادی تھے۔ تاہم فلاحی ادارے نے واضح کیا ہے کہ ہر لاش کی موت کی وجہ کی تصدیق متعلقہ طبی اور تفتیشی اداروں کی رپورٹ کے بعد ہی ممکن ہوتی ہے۔
لاشوں کی بڑی تعداد میں شناخت نہ ہونا اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ بعض افراد سماجی تنہائی، بے گھری یا دیگر مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں، تاہم ہر واقعے کی نوعیت الگ ہو سکتی ہے اور اس بارے میں حتمی رائے صرف تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی دی جا سکتی ہے۔
فلاحی اداروں کا کردار
کراچی جیسے بڑے شہر میں ایدھی فاؤنڈیشن سمیت مختلف فلاحی ادارے لاوارث لاشوں کی منتقلی، قانونی کارروائی، شناخت کے عمل میں معاونت اور تدفین جیسے فرائض انجام دیتے ہیں۔ ایسے ادارے متعلقہ سرکاری محکموں کے ساتھ مل کر کوشش کرتے ہیں کہ اگر ممکن ہو تو متوفیوں کی شناخت کر کے ان کے اہل خانہ تک اطلاع پہنچائی جا سکے، جبکہ شناخت نہ ہونے کی صورت میں قانونی تقاضوں کے مطابق تدفین کا انتظام بھی کیا جاتا ہے۔
