بھارت کی ریاست مہاراشٹرا کی حکومت نے اسکول جانے والے بچوں اور نوجوانوں کی صحت کے تحفظ کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے اسکولوں کے اطراف ہائی کیفین انرجی ڈرنکس کی فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام نوجوانوں میں زیادہ کیفین والے مشروبات کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس سے وابستہ ممکنہ صحت کے خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی پابندی کے تحت ریاست بھر کے تمام اسکولوں کے ارد گرد 500 میٹر کے دائرے میں ہائی انرجی ڈرنکس فروخت نہیں کی جا سکیں گی۔
پابندی کیوں عائد کی گئی؟
رپورٹس کے مطابق حالیہ برسوں میں نوجوانوں اور اسکول کے طلبہ میں انرجی ڈرنکس کے استعمال میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس پر صحت کے ماہرین بھی تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ان مشروبات میں موجود کیفین اور دیگر محرک اجزا کی زیادہ مقدار بچوں اور کم عمر افراد کی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
اسی تناظر میں مہاراشٹرا حکومت نے احتیاطی اقدام کے طور پر اسکولوں کے قریب ان مشروبات کی فروخت محدود کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ طلبہ کی ان تک آسان رسائی کو کم کیا جا سکے۔
اسمبلی میں معاملہ اٹھایا گیا
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ ریاستی اسمبلی میں اس وقت سامنے آیا جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما اور رکن اسمبلی وکرم پچپوتے نے اس معاملے پر توجہ دلائی۔ انہوں نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ بعض مقبول انرجی ڈرنکس میں ایسے اجزا موجود ہوتے ہیں جو کم عمر بچوں اور طلبہ کی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسکولوں کے اطراف ان مشروبات کی فروخت پر پابندی عائد کی جائے تاکہ طلبہ کو ممکنہ صحت کے خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
حکومتی مؤقف
اس سوال کے جواب میں ریاست کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے وزیر نرہری زروال نے اعلان کیا کہ حکومت اسکولوں کے گرد 500 میٹر کے دائرے میں نہ صرف منشیات کی فروخت پر موجود پابندی کو برقرار رکھے گی بلکہ ہائی کیفین انرجی ڈرنکس کی فروخت پر بھی پابندی نافذ کرے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد بچوں اور نوجوانوں کی صحت کا تحفظ اور تعلیمی ماحول کو محفوظ بنانا ہے۔
پس منظر
طبی ماہرین کے مطابق انرجی ڈرنکس میں کیفین اور دیگر محرک اجزا کی زیادہ مقدار بعض افراد، خصوصاً بچوں اور نوعمروں میں دل کی دھڑکن تیز ہونے، بے خوابی، بے چینی، بلند فشارِ خون اور دیگر طبی مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی وجہ سے دنیا کے مختلف ممالک میں کم عمر افراد کے انرجی ڈرنکس کے استعمال پر ضابطے بنانے یا ان کی فروخت محدود کرنے پر بحث جاری ہے۔
مہاراشٹرا حکومت کا حالیہ فیصلہ بھی اسی تناظر میں ایک احتیاطی اقدام قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد طلبہ کی صحت کے تحفظ کو ترجیح دینا اور تعلیمی اداروں کے اطراف صحت مند ماحول کو فروغ دینا ہے۔
