امریکا اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں رواں ہفتے متوقع مذاکرات کے حوالے سے متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ فوجی جھڑپوں کے باعث مذاکرات مؤخر کر دیے گئے ہیں، جبکہ دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوں گے۔
رپورٹس کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد دونوں ممالک نے تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا تھا، تاہم گزشتہ دو روز کے دوران آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے اس عمل کو متاثر کیا ہے۔
دوسری جانب امریکی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مذاکرات منسوخ نہیں ہوئے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے ڈی کنفلکشن چینلز کے ذریعے مسلسل جاری ہیں اور شیڈول کے مطابق ملاقات کی تیاری کی جا رہی ہے۔
آبنائے ہرمز واقعے کے بعد امریکا کی ایران پر نئی فضائی کارروائی، فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا
ادھر خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ امریکا نے ایرانی اہداف پر فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ تہران نے امریکی کارروائی کو مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کی وارننگ دی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایران کو مزید سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صورتحال میں بہتری نہ آئی تو سنگین اقدامات کیے جا سکتے ہیں، جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ کسی بھی حملے کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
