لاہور کے علاقے سندر میں ایک افسوسناک حادثے کے نتیجے میں پانچ سالہ بچہ جان کی بازی ہار گیا۔ مراکہ کوارٹر، ملتان روڈ پر واقع رہائشی علاقے میں حسن نامی بچہ گھر کے باہر کھیلتے ہوئے بغیر ڈھکن والے مین ہول میں گر گیا، جس کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق بچے کے مین ہول میں گرنے کے فوراً بعد اہلِ محلہ نے اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو کارروائی شروع کی۔ کئی منٹ کی جدوجہد کے بعد تقریباً 300 فٹ دور واقع ایک دوسرے گٹر سے بچے کو زخمی حالت میں نکالا گیا اور فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی شدت کے باعث دم توڑ گیا۔
واقعے کے بعد اہلِ علاقہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے متعلقہ اداروں پر غفلت کا الزام عائد کیا۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ مین ہول طویل عرصے سے کھلا پڑا تھا اور متعدد شکایات کے باوجود اسے ڈھانپنے یا مرمت کرنے کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔
بچے کے والد نے تھانہ سندر میں درخواست جمع کرا دی ہے جس میں ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ اور تعمیراتی کمپنی کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ پولیس نے درخواست کی بنیاد پر مقدمہ درج کر لیا ہے اور حکام کے مطابق ذمہ دار افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔
فیصل آباد میں افسوسناک واقعہ، 4 سالہ بچی کھلے مین ہول میں گر کر زندگی کی بازی ہار گئی
دوسری جانب قصور کے قریب چھانگا مانگا کے علاقے میں بھی ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا، جہاں تالاب میں ڈوبنے سے چار بچے جاں بحق ہو گئے۔ دونوں سانحات پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔
وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ واقعات کی مکمل تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر شہری علاقوں میں نکاسی آب کے ناقص نظام اور حفاظتی اقدامات کی کمی پر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔
