قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے وزیراعظم شہباز شریف کو پیشکش کی ہے کہ تمام سیاسی معاملات کو بیٹھ کر حل کیا جائے تاکہ ملک میں جاری سیاسی کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔
پارلیمان کو مضبوط بنانے پر زور
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سیاسی نظام میں موجود غلطیوں کی اصلاح ممکن ہے، تاہم اس کے لیے تمام فریقین کو سنجیدہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق پارلیمان کو مضبوط بنانا اور سیاسی جماعتوں کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ ایک ایسا سیاسی معاہدہ کیا جائے جس کے تحت جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے جمہوری اصولوں کے مطابق تعاون کا راستہ اپنائیں اور سیاسی “ٹانگیں کھینچنے” کی روش ختم ہو۔
صوبائی حقوق اور سیاسی اختلافات پر بات
اپنے خطاب میں محمود خان اچکزئی نے وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی معاملات پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق وفاق صوبوں کو ان کے حقوق فراہم کرتا ہے، لیکن بعض اوقات ان حقوق میں کمی یا تاخیر کے مسائل سامنے آتے ہیں جنہیں حل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے سابق وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی رہنماؤں کے ساتھ سخت رویہ اپنانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ ان میں مزید پیچیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔
آئندہ مالی سال میں وزیراعظم آفس کے اخراجات بڑھانے کی تجویز
سیاسی قیدیوں اور ملاقاتوں پر سوال
محمود خان اچکزئی نے سوال اٹھایا کہ اگر سیاسی رہنماؤں کے درمیان ملاقاتیں یا رابطے ہوں تو اس سے کیا نقصان ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی مسائل کا حل بات چیت اور مکالمے میں ہے نہ کہ ایک دوسرے کو جیلوں میں ڈالنے میں۔
ایوان میں اقبال آفریدی کا معاملہ
انہوں نے رکن اسمبلی اقبال آفریدی کے معاملے پر بھی اسپیکر قومی اسمبلی سے بات کی اور ان کی ایوان سے برطرفی پر سوال اٹھایا۔
اس پر اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ رکن نے ایوان میں غیر مناسب رویہ اختیار کیا، بدتمیزی اور مارپیٹ جیسے واقعات کے بعد کارروائی ناگزیر تھی۔ ان کے مطابق اگر وہ ایوان کے ارکان اور عملے کا تحفظ نہ کر سکیں تو ان کے لیے عہدے پر رہنا ممکن نہیں۔
یہ اجلاس ایک بار پھر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کے سیاسی منظرنامے میں کشیدگی کے باوجود مکالمے اور مفاہمت کی گنجائش موجود ہے۔ تاہم اس کے لیے تمام فریقین کو سنجیدہ اور متوازن رویہ اپنانا ہوگا تاکہ پارلیمانی نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
