اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین Barrister Gohar Ali Khan نے کہا ہے کہ دفاعی بجٹ کی مکمل فراہمی وفاقی حکومت کی آئینی ذمہ داری ہے اور اسے یہ بوجھ صوبوں پر منتقل نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بجٹ کے معاملے کو سیاسی نہیں بلکہ ایک آئینی اور نہایت اہم مسئلہ قرار دیا۔
دفاعی بجٹ وفاق کی ذمہ داری ہے
Barrister Gohar Ali Khan نے کہا کہ دفاعی اخراجات پورے کرنا وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے، اس لیے اسے اپنی ذمہ داری خود پوری کرنی چاہیے اور صوبوں کو اس عمل میں شامل نہیں کیا جانا چاہیے۔
ان کے مطابق ملک کے دفاعی ڈھانچے کو مضبوط رکھنا ناگزیر ہے، لیکن اس کے مالی انتظامات آئینی حدود کے اندر رہ کر ہی طے ہونے چاہئیں۔
معاشی پالیسی اور حکومتی کارکردگی پر تنقید
چیئرمین پی ٹی آئی نے وفاقی حکومت کی معاشی کارکردگی پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران حکومتی پالیسیوں کے باعث معیشت کو مطلوبہ بہتری نہیں مل سکی۔
انہوں نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو Federal Board of Revenue کو مؤثر اصلاحات نہ دیے جانے کی وجہ سے ٹیکس نظام کمزور ہوا اور کاروباری طبقہ متاثر ہوا۔
وزیراعظم شہباز شریف: دفاع اور معیشت کے لیے زیادہ وسائل پیدا کرنا اولین ترجیح
قرضوں اور معاشی دباؤ پر مؤقف
انہوں نے دعویٰ کیا کہ موجودہ دور میں ملکی تاریخ کے سب سے زیادہ قرضے لیے گئے ہیں، جس سے معیشت پر دباؤ بڑھا ہے۔ ان کے مطابق ادارہ جاتی اصلاحات کے بغیر معاشی استحکام حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
صوبائی حقوق اور این ایف سی پر مؤقف
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کا مالی حصہ انہیں مکمل طور پر ملنا چاہیے۔ ان کے مطابق قومی مالیاتی کمیشن (NFC) کے اصولوں میں براہِ راست یا بالواسطہ کسی قسم کی تبدیلی آئینی روح کے خلاف ہوگی۔
انہوں نے واضح کیا کہ این ایف سی کے تحت طے شدہ طریقہ کار کو کسی متبادل راستے سے تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔
دفاعی صلاحیت پر زور
اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے کہا کہ ملک کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہونا چاہیے تاکہ کسی بھی بیرونی خطرے کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔
