جہلم میں ناقص خوراک فروخت کرنے والے فوڈ پوائنٹس شہریوں کی صحت کیلئے خطرہ بن گئے

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

جہلم شہر اور گردونواح میں قائم متعدد فوڈ پوائنٹس، جوس کارنرز اور کھانے پینے کے ٹھیلوں پر ناقص اور غیر معیاری اشیائے خورونوش کی فروخت شہریوں کی صحت کے لیے سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ شہریوں اور سماجی حلقوں نے متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

latest urdu news

شہریوں کا کہنا ہے کہ مختلف مقامات پر فروخت ہونے والے ملک شیک، جوسز، فروٹ چاٹ، دہی بھلے اور دیگر اشیائے خورونوش کی تیاری میں معیاری اجزاء کے بجائے غیر معیاری اور ناقص میٹریل استعمال کیا جا رہا ہے۔ بعض فوڈ پوائنٹس پر دودھ اور دہی کی جگہ مصنوعی اجزاء اور مبینہ طور پر مضر صحت کیمیکلز کے استعمال کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔

عوامی حلقوں کے مطابق متعدد مقامات پر باسی پھل، خراب دودھ اور غیر معیاری مصالحہ جات استعمال کیے جاتے ہیں، جس سے معدے، جگر اور آنتوں کی بیماریوں سمیت ہیپاٹائٹس اور دیگر موذی امراض پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گرمیوں کے موسم میں ٹھنڈی اشیاء کی طلب میں اضافے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض عناصر بھاری قیمتیں وصول کر رہے ہیں لیکن معیار اور حفظانِ صحت کے اصولوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

شہریوں نے شکایت کی ہے کہ غیر معیاری خوراک فروخت کرنے والے متعدد فوڈ پوائنٹس کے خلاف مؤثر نگرانی اور کارروائیاں دکھائی نہیں دیتیں، جس کے باعث ایسے عناصر کے حوصلے مزید بلند ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو عوامی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

گجرات میں ناقص خوراک کے خلاف کریک ڈاؤن، پنجاب فوڈ اتھارٹی کی 163 مقامات پر کارروائیاں

سماجی تنظیموں، شہریوں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں فوڈ پوائنٹس، جوس کارنرز اور کھانے پینے کی دکانوں کی ہنگامی بنیادوں پر چیکنگ کی جائے اور ناقص، مضر صحت اور غیر معیاری اشیائے خورونوش فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ عوام کو حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پنجاب فوڈ اتھارٹی اپنی نگرانی کا نظام مزید مؤثر بنائے تاکہ شہری مختلف بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter