ٹرمپ انتظامیہ کا امیگرینٹس کے خلاف سخت اقدامات کا آغاز، ملازمتوں اور سہولیات تک رسائی محدود

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکا میں امیگریشن پالیسیوں کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے منسوب انتظامیہ نے امیگرینٹس کو ملازمتوں، ہاؤسنگ اور صحت کی سہولیات سے دور رکھنے کے منصوبے پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت مختلف شعبوں میں غیر ملکی افراد کی رسائی محدود کی جا رہی ہے۔

latest urdu news

ملازمتوں سے برطرفیوں کا سلسلہ

میڈیا رپورٹس کے مطابق بوسٹن ایئرپورٹ پر گزشتہ تین دہائیوں سے کام کرنے والے کئی ملازمین کو فارغ کر دیا گیا ہے۔ یہ وہ افراد تھے جن کے پاس سوشل سیکیورٹی نمبرز موجود تھے اور وہ طویل عرصے سے اپنی خدمات انجام دے رہے تھے۔ اچانک برطرفیوں نے متاثرہ افراد اور ان کے خاندانوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق حکومتی پالیسی کے تحت اب ملازمتوں میں ترجیح امریکی شہریوں، گرین کارڈ ہولڈرز اور بعض دیگر اہل افراد کو دی جا رہی ہے، جبکہ غیر ملکی ورک فورس کے لیے مواقع محدود کیے جا رہے ہیں۔

امیگریشن پالیسی میں سختی اور نئی ترجیحات

پالیسی سازوں کے مطابق اس اقدام کا مقصد مقامی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانا اور ملکی معیشت میں امریکی شہریوں کی شمولیت کو ترجیح دینا ہے۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات امیگرینٹس کی زندگیوں اور روزگار پر منفی اثر ڈال رہے ہیں۔

دیگر مجوزہ پابندیاں اور اقدامات

میڈیا رپورٹس کے مطابق مزید سخت اقدامات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ ان میں یہ تجاویز شامل ہیں کہ اگر والدین میں سے کوئی ایک امریکی شہری نہ ہو تو امریکا میں پیدا ہونے والے بچے کو وفاقی سبسڈی نہ دی جائے۔

اسی طرح غیر شہریوں، بشمول گرین کارڈ ہولڈرز، کے لیے بزنس لون تک رسائی پہلے ہی محدود کی جا چکی ہے۔ مزید یہ کہ سیاسی پناہ لینے والے افراد کے لیے ورک پرمٹ کے اجرا پر بھی نئی پابندیاں زیر غور ہیں۔

امیگرینٹس پر بڑھتا دباؤ

رپورٹس کے مطابق سخت پالیسیوں کے باعث کئی امیگرینٹس نے احتیاطی طور پر اپنی سرگرمیاں کم کر دی ہیں۔ بعض افراد نے ٹیکس فائلنگ، طبی سہولیات کے استعمال اور غیر ضروری سفر تک محدود کر دیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بڑی تعداد میں غیر دستاویزی یا عارضی حیثیت رکھنے والے افراد ملک چھوڑنے پر بھی مجبور ہوئے ہیں۔

امیگریشن پالیسی پر بحث

ماہرین کے مطابق امیگریشن کے حوالے سے یہ سخت اقدامات امریکی معاشرے میں ایک نئی بحث کو جنم دے رہے ہیں۔ ایک طرف حکومت اسے معاشی اصلاحات اور روزگار کے تحفظ کے طور پر پیش کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب انسانی حقوق کے حلقے اسے امیگرینٹس کے لیے مشکلات میں اضافے کا باعث قرار دے رہے ہیں۔

اس صورتحال میں آنے والے دنوں میں امریکی امیگریشن پالیسی مزید سخت یا متنازع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter