امریکا ایران کشیدگی میں اضافہ: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پھر اوپر

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

امریکا اور ایران کے درمیان تازہ جھڑپوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا گیا ہے۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق جغرافیائی سیاسی کشیدگی نے سرمایہ کاروں میں بے یقینی پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتیں اوپر گئی ہیں۔

latest urdu news

بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت تقریباً ڈھائی فیصد اضافے کے بعد 96 ڈالر 63 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی۔ یہ اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایک روز قبل ہی اسی تیل کی قیمت میں 5 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی صورتحال

اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے، جو بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل اس کی قیمت میں تقریباً 6 فیصد کمی دیکھی گئی تھی۔

قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ

توانائی کے تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں یہ غیر معمولی اتار چڑھاؤ بنیادی طور پر امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، مشرق وسطیٰ میں ممکنہ سپلائی رکاوٹوں اور عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے ہے۔

آبنائے ہرمز جیسے اہم تیل بردار راستوں سے سپلائی متاثر ہونے کے خدشات بھی مارکیٹ پر دباؤ ڈال رہے ہیں، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔

عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو اس کا براہ راست اثر عالمی توانائی قیمتوں، مہنگائی اور ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں پر پڑ سکتا ہے۔ خاص طور پر وہ ممالک جو درآمدی تیل پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے یہ صورتحال مزید دباؤ کا باعث بن سکتی ہے۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ صورتحال ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ کی سیاسی کشیدگی عالمی معیشت اور توانائی منڈیوں پر فوری اور گہرا اثر ڈالتی ہے، جس سے قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ پیدا ہوتا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter