خطبہ حج میں اہم پیغام: ظلم اور ناشکری کرنے والی قوموں سے اللہ نعمتیں چھین لیتا ہے

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

میدانِ عرفات میں واقع مسجد نمرہ میں خطبہ حج دیتے ہوئے امام مسجد نبوی عبدالرحمن الحذیفی نے مسلمانوں کو تقویٰ، صبر اور اللہ کی وحدانیت پر عمل کرنے کی تلقین کی۔

latest urdu news

انہوں نے اپنے خطبے میں کہا کہ صرف اللہ ہی کی عبادت کی جائے، اسی سے ڈرا جائے اور اسی کی طرف رجوع کیا جائے، کیونکہ توحید پر عمل ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔

صبر اور شکر کا پیغام

خطبہ حج میں امام نے کہا کہ مسلمانوں کو کسی بھی مشکل میں صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے، کیونکہ صبر کرنے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا ضروری ہے، اور جن قوموں نے ظلم کیا اور ناشکری کی، ان سے اللہ تعالیٰ نے نعمتیں چھین لیں۔ یہ بات بطور عبرت بیان کی گئی تاکہ مسلمان اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور درست راستہ اختیار کریں۔

اخلاقی اور اجتماعی ہدایات

خطاب میں سچ بولنے، جھوٹ اور غلط بیانی سے بچنے پر بھی زور دیا گیا۔ امام نے کہا کہ حجاج کرام کو حج کے دوران نماز قائم رکھنی چاہیے، زیادہ سے زیادہ ذکر اور عبادات میں مشغول رہنا چاہیے اور ہر وقت مغفرت کی دعا کرتے رہنا چاہیے۔

دنیا بھر سے آئے تقریباً 18 لاکھ عازمین حج منیٰ پہنچ گئے، وقوفِ عرفہ کی تیاری شروع

انہوں نے مزید کہا کہ اللہ اور بندے کے درمیان تعلق ہی نجات کا ذریعہ ہے، اس لیے ایمان والوں کو اپنے رب کے ساتھ مضبوط تعلق قائم رکھنا چاہیے۔

اتحاد اور امن پر زور

خطبہ حج میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ حج کے دوران کسی بھی قسم کے جھگڑے، لڑائی یا اختلاف سے اجتناب کیا جائے، کیونکہ ایسے اعمال امت کے اتحاد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

مسلمانوں کو یہ بھی تلقین کی گئی کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کریں اور ایسے تمام اعمال سے بچیں جو اجتماعی یکجہتی کو متاثر کریں۔

عرفات میں عظیم اجتماع اور دعائیں

لاکھوں عازمین نے میدانِ عرفات میں خطبہ حج سنا، جہاں دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔ خطبے کے بعد مسجد نمرہ میں ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی گئیں، جس کے بعد عازمین حج اپنے روحانی سفر کے اگلے مرحلے کی طرف روانہ ہوئے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter