قطر سے ایل این جی کی مسلسل تیسری کھیپ پاکستان پہنچنے کے قریب، توانائی سپلائی کو اہم سہارا

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

شدید گرمی، بڑھتی بجلی طلب اور علاقائی کشیدگی کے دوران پاکستان نے ایندھن کی فراہمی برقرار رکھنے کی جانب ایک اور اہم پیش رفت حاصل کر لی۔
قطر سے آنے والا ایل این جی ٹینکر پاکستانی حدود میں داخل

latest urdu news

پاکستان کی توانائی سپلائی چین کو اس وقت ایک اہم تقویت ملی جب قطر سے روانہ ہونے والا مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بردار جہاز ’’فویرت‘‘ حساس آبنائے ہرمز عبور کرتے ہوئے پاکستانی سمندری حدود میں داخل ہوگیا۔ حکام کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جاری کشیدگی کے باعث توانائی کی عالمی منڈی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایل این جی ٹینکر ’’فویرت‘‘ آج (منگل) یا کل (بدھ) کو اینگرو ایل این جی ٹرمینل پر لنگر انداز ہونے کی توقع ہے۔ اس کھیپ کی آمد پاکستان کے لیے اس لحاظ سے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کہ ملک میں گرمی کی شدت بڑھنے کے ساتھ بجلی اور گیس کی طلب میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔

مزید ایل این جی کارگو کی آمد متوقع

پیٹرولیم ڈویژن کے سینئر حکام نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ ایک اور ایل این جی بردار جہاز آئندہ چند روز میں پاکستان پہنچنے والا ہے۔ یہ جہاز پاکستان گیس پورٹ کنسورشیم لمیٹڈ (پی جی پی ایل) کے ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگا۔

مسلسل ایل این جی کارگو کی آمد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حکومت توانائی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مختلف انتظامی اقدامات کررہی ہے۔ خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں بجلی گھروں کی ایندھن ضروریات بڑھ جاتی ہیں، جس کے باعث گیس سپلائی برقرار رکھنا اہم ہو جاتا ہے۔

آبنائے ہرمز کی کشیدگی کے باوجود قطر سے ایل این جی لانے والا دوسرا جہاز کراچی پہنچ گیا

دو ہفتوں میں قطر سے تیسری بڑی کھیپ

’’فویرت‘‘ کی آمد دو ہفتوں سے بھی کم عرصے کے دوران قطر سے پاکستان آنے والی مسلسل تیسری ایل این جی کھیپ ہے۔

اس سے پہلے 15 مئی کو ’’مِہزم‘‘ نامی ایل این جی جہاز تقریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار مکعب میٹر مائع قدرتی گیس لے کر پورٹ قاسم کے پی جی پی ایل ٹرمینل پر پہنچا تھا۔ اس سے دو روز قبل، 13 مئی کو ’’الخرائطیات‘‘ نامی کیو فلیکس ایل این جی جہاز اینگرو ٹرمینل پر لنگر انداز ہوا تھا۔

عالمی مارکیٹ اور آبنائے ہرمز کی اہمیت

توانائی ماہرین کے مطابق پاکستان اس وقت قطر کے ساتھ طویل المدتی ایل این جی معاہدوں پر نمایاں حد تک انحصار کررہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ عالمی اسپاٹ مارکیٹ میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال ہے۔

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس راستے کے گرد پیدا ہونے والی کشیدگی عالمی توانائی سپلائی اور قیمتوں پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان کے لیے بروقت ایل این جی کھیپوں کی آمد نہ صرف توانائی ضروریات پوری کرنے میں اہم ہے بلکہ ممکنہ سپلائی خدشات سے نمٹنے کے لیے بھی ایک مثبت پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter