روس کا یوکرین پر بڑا حملہ، 90 میزائل اور 600 ڈرونز فائر، اوریشنک ہائپرسونک میزائل بھی استعمال

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں شدت ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جب روس نے کیف اور اطراف میں بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔

latest urdu news

کیف اور قریبی علاقوں پر شدید حملے

روس نے اتوار کے روز یوکرین کے دارالحکومت Kyiv اور اس کے نواحی علاقوں پر ڈرونز اور میزائلوں کی بارش کر دی۔ ان حملوں میں جدید ہائپرسونک میزائل اوریشنک بھی استعمال کیا گیا، جسے اس جنگ کے دوران ایک بار پھر انتہائی خطرناک اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یوکرینی حکام کے مطابق یہ حملے گزشتہ چار سال سے جاری جنگ کے دوران دارالحکومت پر کیے گئے شدید ترین حملوں میں سے ایک ہیں۔

جانی و مالی نقصان

یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ رات بھر جاری رہنے والے حملوں میں کم از کم 4 افراد ہلاک جبکہ 80 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ حملوں کے نتیجے میں کئی رہائشی عمارتیں، اسکول اور شہری انفراسٹرکچر بھی شدید متاثر ہوا۔

متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

90 میزائل اور 600 ڈرونز کا استعمال

یوکرینی فضائیہ کے مطابق اس بڑے حملے میں مجموعی طور پر 90 میزائل اور 600 ڈرونز فائر کیے گئے۔ حملے کی شدت کو دیکھتے ہوئے اسے حالیہ جنگ کے سب سے بڑے فضائی حملوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس کارروائی میں روس نے مختلف اقسام کے جدید میزائل استعمال کیے جن میں اوریشنک، اسکندر، کنزال اور زرکون شامل ہیں۔

اوریشنک میزائل کیا ہے؟

اطلاعات کے مطابق Oreshnik hypersonic missile ایک طویل فاصلے تک مار کرنے والا ہائپرسونک میزائل ہے جو ہزاروں کلومیٹر تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں جوہری وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت بھی موجود بتائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے اسے انتہائی خطرناک ہتھیاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ اس جنگ میں تیسری مرتبہ ہے کہ اس میزائل کا استعمال کیا گیا ہے۔

روس کا مؤقف

روس کی وزارت دفاع کے مطابق یہ حملے یوکرین کی جانب سے روسی سرزمین پر شہری اہداف کو نشانہ بنانے کے جواب میں کیے گئے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں میں یوکرین کے فوجی کمانڈ مراکز، فضائی اڈے اور دفاعی صنعت سے وابستہ تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

جنگ کی بڑھتی شدت

فروری 2022 میں شروع ہونے والی اس جنگ میں وقت کے ساتھ ساتھ نہ صرف زمینی لڑائی بلکہ فضائی اور میزائل حملوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملے اس تنازع کو مزید پیچیدہ اور خطرناک بنا رہے ہیں۔

عالمی تشویش میں اضافہ

اس طرح کے بڑے پیمانے پر حملوں کے بعد عالمی سطح پر ایک بار پھر تشویش بڑھ گئی ہے، کیونکہ بھاری ہتھیاروں اور جدید میزائل ٹیکنالوجی کا استعمال خطے کے ساتھ ساتھ عالمی سلامتی کے لیے بھی خطرناک سمجھا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:

ہمیں فالو کریں

frontpage hit counter